خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 59

1946ء 59 خطبات محمود میں نے ایک گزشتہ خطبہ جمعہ میں خنساء کا ایک قصہ سنایا تھا۔ اُس وقت جو حصہ سنایا تھا وہ اس مضمون کے ساتھ تعلق رکھتا تھا کہ جب ایک جنگ میں مسلمانوں کے لئے خطرناک صورت پیدا ہو گئی تو خنساء نے اپنے تینوں بیٹوں کو بلایا اور کہا میں نے تمہیں بیوگی کی حالت بڑی بڑی مصیبتوں میں رہ کر پالا اور تمہاری پرورش کی ہے۔ میں اپنا دودھ قیامت کے دن تمہیں معاف نہیں کروں گی جب تک تم فتح پا کر نہ لوٹو گے یا مارے نہ جاؤ گے۔ لیکن دوسرا حصہ وہ ہے جو آج کے مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ خنساء نے اپنے بیٹوں کو بھی تو دیا لیکن انہیں بھیج کر وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہو گئی اس نے اپنے بیٹوں کو موت کے لئے بھیجا اور اسلام کی طرف سے جو اُس پر ذمہ داری تھی اُسے ادا کر دیا۔ اس کے بعد اُس پر جو دوسری ذمہ داری تھی یعنی مامتا کی اُس نے اُسے ادا کیا۔ وہ اُن کو موت کے منہ میں بھیج کر خود خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گر گئی اور کہا اے میرے رب ! میں نے اپنی جوانی دکھ میں گزاری ہے کیونکہ میرا خاوند بد معاش آدمی تھا۔ پھر میں نے اپنا بڑھا پا دکھ میں گزارا کیونکہ تین بچوں کی پرورش کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ اب اے میرے رب ! جب مجھے آرام ملنے کا موقع تھا میں نے اپنے تینوں بچوں کو جو میری ساری عمر کی کمائی ہیں تیرے دین کی خدمت کے لئے یہ کہہ کر بھیج دیا ہے کہ جاؤ یا تو فتح پا کر واپس آنا یا وہیں مر جانا۔ لیکن اے میرے رب ! اب میری مامتا تیرے عرش کے آگے اپیل کرتی ہے کہ اُن کو زندہ ہی واپس لانا۔ چنانچہ وہ زندہ ہی واپس آئے اور فتح پا کر آئے۔ اب بھی جب کہ بعض ماؤں نے اپنے بچوں کو گھر سے نکال کر باہر پھینک دیا ہے، جب نوجوانوں نے اپنی زندگیاں دین اسلام کے لئے وقف کر دی ہیں اور باپوں نے اپنی نسلیں خدا تعالیٰ کے لئے دے دی ہیں اور جتنی اسلام کے لئے قربانی کی ذمہ داری تھی وہ بعضوں نے پوری کر دی اور بعض پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے سامنے جھک کر کہیں کہ اے ہمارے رب! ہم نے اپنی عمر کی کمائی تیرے دین کے لئے دے دی ہے۔ اب تو خود ہی اُن کی حفاظت کر اور اُن کو بامراد واپس لا کہ ہمارے دل بھی خوش ہوں اور تیرے دین کی بھی ترقی ہو۔ یہی وہ ذمہ داری ہے جو ہم پر عائد ہے۔ اُسی طرح جس طرح خنساء پر تھی۔ بلکہ دین کا رشتہ دنیا کے رشتہ سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ اگر خنساء اپنے