خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 58

*1946 58 خطبات محمود ايَّاكَ نَعْبُدُ 7 کے ماتحت اپنی زندگیاں وقف کر دینی چاہئیں اور اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ 8 کے ماتحت اپنی دعاؤں کو وقف کر دینا چاہئے۔اگر ہم ایسا کر دیں تو یقیناً اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ ایسا صراط مستقیم پیدا فرما دے گا جس سے احمدیت دنیا میں غالب آجائے گی، رسول کریم صلی ا ظلم کا نام دنیا میں پھر روشن ہو جائے گا۔قرآن کریم پھر بولنے والی کتاب بن جائے گی جو لوگوں سے باتیں کرے گی، اُن کی اصلاح کرے گی اور ان کے اندرونی نقائص کو دور کر دے گی۔مگر ضرورت ہے کہ ہم اپنے اندر تبدیلی پیدا کر کے اپنے آپ کو اُس کے فضلوں کے مستحق بنائیں۔اور خدا تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا کر دعا کریں کہ وہ ہمیں اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے اپنا آلہ کار بنالے، وہ ہماری زبانوں میں اثر پیدا کرے، وہ ہماری آنکھوں میں اثر پیدا کرے، وہ ہمارے ہاتھوں میں اثر پیدا کرے تا کہ اگر ہم کچھ لکھیں تو وہ لوگوں کے دلوں میں اتر جائے۔کسی طرف آنکھ اٹھائیں تو اس کے دل میں نرمی پیدا ہو جائے، کوئی بات کریں تو لوگ اس کے ماننے پر آمادہ ہو جائیں۔اور پھر وہ ہمارے قلوب کی ایسی حالت کر دے کہ جب ہم خواہش کریں کہ فلاں علاقہ اسلام میں داخل ہو جائے تو خدا تعالیٰ کے فرشتے فوراً آمین کہیں اور خدا تعالیٰ عرش سے حکم نازل کرے کہ ایسا ہو جائے۔ہم تو اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہدایت پا جائیں۔لیکن اللہ تعالیٰ ہی ہے جو اس خواہش کو ہدایت پا جائیں“ کی بجائے ہدایت پاگئے “ کی صورت میں بدل سکتا ہے۔اگر ہماری یہ خواہش اخلاص پر مبنی ہے اور ہمارا اسلام کی ترقی کے لئے مبلغین کو باہر بھیجنا تقویٰ پر مبنی ہے تو اس صورت میں خدا تعالیٰ جس بات کا پہلے سے ارادہ کر چکا ہے اُس کا ظہور میں آجانا کوئی مشکل امر نہیں۔پس دوستوں کو ان دنوں میں خصوصیت کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کرنی چاہئیں اور اپنی ذات کی بھی اصلاح کرنی چاہئے۔ہم نے اپنے نوجوانوں کو اگر وہ ہم میں سے کسی کے بیٹے نہیں تو بہر حال وہ کسی ماں اور کسی باپ کے بیٹے ہیں دنیا میں بھیجا ہے۔تن تنہا بغیر سامانوں کے ، بغیر ہتھیاروں کے، بغیر تجربہ کے اور بغیر اُن علوم کے جن کو پیش کئے بغیر یورپین لوگ بات ہی نہیں مانتے۔میں نے جیسا کہ پہلے بھی مثال دی ہے ہم نے اُن کو ایسی صورت میں بھیجا ہے جیسے کاغذ کی ناؤ کو دریا میں بہا دیا جاتا ہے۔اب ہمارا فرض ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے حضور گر جائیں اور اُس کی مددمانگیں۔