خطبات محمود (جلد 27) — Page 666
1946ء 666 46 خطبات محمود جماعت روپے سے نہیں بلکہ ایمان سے زندہ رہتی ہے )فرمودہ 20 دسمبر 1946ء تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وصیت کی بنیاد اس امر پر رکھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے جماعتی فنڈ کی مالی حالت کو بہت کچھ ترقی دے گا اور تبلیغ اسلام کے لئے جن رقوم کی ضرورت ہو گی اللہ تعالی اس تحریک کے ذریعہ انہیں پیدا کرے گا۔ تبلیغ اسلام کا فریضہ اتنا وسیع ہے کہ اُس زمانے کی جماعت کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی شخص یہ قیاس بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس وصیت کے ذریعہ تبلیغ اسلام کی ضرورتیں پوری ہوتی جائیں گی۔ اُس وقت جماعت کی مالی حالت باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے لوگ بھی بڑی بڑی قربانیاں کرنے والے تھے بہت کمزور تھی اور مشکل سے تین ہزار روپیہ سالانہ چندہ ہوتا تھا۔ حالانکہ ان لوگوں کی قربانیاں ایسی تھیں جن کو دیکھ کر انسان محو حیرت ہو جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک دوست منشی رستم علی صاحب ہوتے تھے۔ وہ کورٹ سب انسپکٹر تھے اور اُس زمانہ میں اس سے اوپر کوئی عدالتی عہدہ نہ تھا۔ اب تو کورٹ زمانہ اوپر تو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بھی ہوتا ہے لیکن اُس وقت کورٹ سب انسپکٹر کا عہدہ ہی سب سے اوپر تھا۔ اور اُس زمانہ میں تنخواہیں بھی کم ہوتی تھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات سے ڈیڑھ دو سال پہلے 1906ء کے شروع میں یا 1906ء کے آخر میں گورنمنٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ آئندہ ضلع کے انچارج کورٹ انسپکٹر ہوا کریں ۔ اس سے پیشتر سب انسپکٹر ضلع کے انچارج