خطبات محمود (جلد 27) — Page 57
خطبات محمود 57 *1946 میں یہ بات سمجھانے کے لئے ایک موٹی مثال دیتا ہوں۔تم ایک چیز کھاتے ہو، اُس کے بعد تمہیں پتہ نہیں ہوتا کہ تمہارے معدے میں کیا ہو رہا ہے، تمہیں پتہ بھی نہیں ہوتا کہ تمہارے جگر میں کیا ہو رہا ہے، تمہیں پتہ بھی نہیں ہوتا کہ تمہارے دل میں کیا ہو رہا ہے اور دس پندرہ دن کے بعد وہ کھانا ایک بیماری کی شکل میں ظاہر ہو جاتا ہے۔اُس کی وجہ یہی ہے کہ جسم کے ایک حصہ کو اس کا علم تھا اور دوسرے کو اُس کا پتہ نہیں تھا۔ظاہر اس بات سے ناواقف تھا کہ اندر زہر کی ایک فیکٹری بن گئی ہے لیکن باطن اس فیکٹری کو جانتا تھا۔پس یہ عجیب بات نہیں۔روزانہ ایسا ہوتا ہے کہ بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کو ہم ظاہری علم کے لحاظ سے نہیں جانتے لیکن ہمارا اندر انہیں جانتا ہے اور بعض ایسی ہوتی ہیں جن کو ہم ظاہر میں بھی جانتے ہیں۔اسی طرح رات کے وقت انسان جن خیالات میں سوتا ہے وہی ساری رات اس کے قلب میں چکر لگاتے رہتے ہیں۔پس جب طبیعت میں جوش پیدا ہو جائے اور انسان خواہ کسی حالت میں ہو دعا کرتا رہے تو وہ دعا ضرور قبول ہو جاتی ہے۔میں نے خود کئی دفعہ دیکھا ہے میں کام بھی کرتارہتا ہوں اور دعا بھی دل سے نکلتی چلی جاتی ہے۔اُس وقت مجھے یقین ہوتا ہے کہ یہ دعا ضرور قبول ہو گی۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہمارے لئے بھی اسی طرح دعا کریں۔وہ یہ نہیں جانتے کہ قلب کی یہ کیفیت انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی۔یہ نتیجہ ہوتی ہے دوسری دعاؤں کا۔بہر حال افراد کی ضروریات بھی خدا تعالیٰ پوری کرتا ہے اور قوم کی ضروریات بھی خدا تعالیٰ پوری کرتا ہے لیکن اسلام کی ضروریات کو پورا کرنا تو وہ اپنا فرض سمجھتا ہے کیونکہ اسلام کو اس نے بھیجا۔رسول کریم ملی ای کم کو اس نے بھیجا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس نے بھیجا۔پس جس ہستی نے رسول کریم صلی اللہ ہم کو بھیجا اور قرآن شریف کو نازل کیا، جس ہستی نے دونوں کے نام کو دوبارہ روشن کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا اُس ہستی کے متعلق یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ہم سے زیادہ دنیا کی اصلاح کی فکرم نہیں۔یقیناً وہ ہم سے زیادہ فکر مند ہے۔سوال صرف اس قدر ہے کہ ہم اس کے آلہ کار بن جائیں تاکہ ہمارے ذریعہ وہ مقصد پورا ہو جائے۔اس کے لئے ہمیں اُس کے حضور جھک کر مند