خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 610

*1946 610 خطبات محمود ہر جگہ مغلوب تھے اور اُس وقت عیسائیت ایسی ہی تھی جیسے آجکل کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہیں۔یہ تو مسلمانوں کی غفلت تھی کہ انہوں نے عیسائیوں کو سر اٹھانے دیاور نہ عیسائیت کوئی ایسی طاقت نہ تھی کہ بڑھ جاتی۔اُس وقت جبکہ عیسائیت کی ترقی کے کچھ بھی آثار نہ تھے راویوں نے کس طرح یہ خبر دی کہ عیسائی اتنے عرصہ کے بعد تمام دنیا پر غالب آجائیں گے اور پھر یہ کس طرح خبر دی کہ ایک نئی قسم کی سواری نکل آئے گی اور اونٹنیاں بیکار ہو جائیں گی۔پھر یہ کس طرح خبر دی تھی کہ ایک گائے کا سر ہزار روپے میں فروخت ہو گا۔یہ تمام خبریں ایسے وقت میں دی گئی تھیں جب کہ ہر شخص سوائے کامل ایمان والوں کے ان باتوں کو ماننے کے لئے تیار نہ تھا اور کفار ایسی باتیں سن کر تمسخر اڑاتے تھے۔پس اس وقت یہ خبر دینا کہ اتنے عرصہ کے بعد یوں ہو جائے گا جبکہ اس کے متعلق کوئی آثار ہی نہ پائے جاتے تھے اور پھر ان تمام پیشگوئیوں کا حرف بحرف پورا ہونا کیا ایسی خبریں جھوٹی کہلاتی ہیں ؟ اگر یہ سچی ہیں اور یقیناً سچی ہیں تو انہی خبروں میں حضرت مسیح موعود کی آمد کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور جس کا آنا انہی خبروں کے پورا ہونے کے ساتھ وابستہ تھا۔صرف یہی پیشگوئی کیوں نہ پوری ہوئی اور باقی تمام پوری ہو گئیں۔مثلا رسول کریم صل اللہ نیم کی یہ پیشگوئی کہ ایک گائے کا سر ہزار روپیہ میں فروخت ہو گا۔4 یہ نہایت عظیم الشان رنگ میں پوری ہوئی۔بلکہ ہزار روپیہ کو چھوڑ ، کروڑوں روپیہ تک میں ایک گائے کا سر فروخت ہوا۔پچھلی جنگ میں جرمن سکہ کی قیمت اتنی گر گئی تھی کہ حد ہی ہو گئی اور لوگوں نے یہاں کے روپیہ سے جرمن سکہ بدلنا شروع کر دیا تھا۔اس وقت مجھے بھی بعض لوگوں نے تحریک کی کہ آپ بھی کچھ سکہ بدل لیں۔چنانچہ میں نے اپنے ایک عزیز سے کہا کہ تم جر منی جاکر تعلیم حاصل کر آؤ کیونکہ میرا خیال تھا کہ وہاں تھوڑے سے روپے میں تعلیم حاصل ہو جائے گی۔چنانچہ میں نے دو ہزار روپیہ جرمنی کے ایک بنک میں بھیج دیا جس کے بدلے میں جرمن سکہ وہاں میرے حساب میں قریباً دو تین لاکھ جمع ہو گیا۔اُس وقت ہمیں ان باتوں کا تجربہ نہ تھا اور اس وقت رسول کریم صلی ایم کی ان حدیثوں کی طرف ہمارا ذ ہن نہ گیا کہ یہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں اس میں فائدہ نہیں بلکہ خرابی اور نقصان ہے۔خیر میں نے اپنے اس عزیز کو جر منی روانہ کر دیا مگر