خطبات محمود (جلد 27) — Page 585
*1946 585 خطبات محمود وزیر اعظم تھے تار دیا کہ حالت سخت نازک ہے، ہماری صفوں میں دراڑ پیدا ہو چکی ہے اور دراڑ بھی معمولی نہیں سات میل کا ایک لمبا علاقہ ہے جس میں ہماری کوئی فوج نہیں۔جرمن ٹینک اور موٹر اور اُس کے توپ خانہ کے دستے بڑی تیزی سے آگے بڑھتے آ رہے ہیں۔جس وقت وہ اس حلقہ میں سے گزر گئے انگریزی فوج کے لئے کوئی ٹھکانا نہیں رہے گا۔اس وقت ہم بے انتہاء مدد کے محتاج ہیں اور انگلستان سے مدد کی درخواست کرتے ہیں۔ظاہر ہے کہ اگر حالات اسی طرح رہتے تو اس تار کے پہنچنے اور پھر مدد آنے تک سب کچھ ختم ہو جاتا مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے اس نے حالات کو یکدم بدل دیا۔جس وقت یہ تار مسٹر لائڈ جارج کو ملا اُس وقت وہ وزارت میں بیٹھے مشورہ کر رہے تھے مگر باوجود اس کے کہ تعلیم یافتہ انگریز عام طور پر مذہب سے کورے ہوتے ہیں اور انہیں خدا تعالیٰ پر کامل یقین نہیں ہو تا۔جب افسر نے ان کو تار دیا اور انہوں نے وہ تار پڑھی تو وہ فورا کرسی سے اٹھ کر دوزانو ہو گئے اور انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔دوستو ! اب باتیں کرنے کا وقت نہیں، اب کام کرنے کا بھی وقت نہیں، اب دعا کے سوا ہمارے لئے اور کوئی چارہ نہیں۔یہ ایک دہر یہ صفت انسان کا کام تھا جو اسلام کی نورانی صفات سے بے بہرہ تھا۔جو اللہ تعالیٰ کے ان نشانات سے جو دعاؤں کی قبولیت کے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں قطعی طور پر نا واقف تھا مگر وہ جانتا تھا کہ اب بہر حال با تیں کام نہیں آسکتیں۔وہ جانتا تھا کہ اب بہر حال کوششیں کام نہیں دے سکتیں۔اب کوئی تیسر ارستہ ہونا چاہئے اور وہ تیسر ارستہ سوائے اس رستہ کے جو اللہ تعالیٰ کے انبیاء ہمیشہ سے بتاتے چلے آئے ہیں، اُسے کوئی نظر نہ آیا۔یعنی دعا اور خدا تعالیٰ کے سامنے التجا۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ایک مرحلہ انسان پر ایسا بھی آتا ہے۔جب نہ باتیں کام دیتی ہیں نہ کام کام دیتے ہیں۔صرف دعا اور اللہ تعالیٰ کے حضور التجا ہی انسان کے کام آتی ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ کام چھوڑ دیا جائے۔کام اپنے پورے زور سے جاری رکھنا اور عمل کو کسی مقام پر بھی ترک نہ کرنا اللہ تعالیٰ کے احکام میں شامل ہے اور جو شخص اسے چھوڑتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی گستاخی کرتا ہے اور گستاخی کی وجہ سے انسان کی دعارڈ کر دی جاتی ہے، قبول نہیں ہوتی۔وہ واقعہ جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے اس میں بھی عمل اور دعا دونوں سے کام لیا گیا تھا