خطبات محمود (جلد 27) — Page 577
خطبات محمود 577 مشکل ہمارے سامنے پیش کر کے اس کا حل تجویز کرانا چاہئے۔*1946 جہاں تک میں نے غور کیا ہے میں دیکھتا ہوں ہماری جماعت نے وہ طریقہ تبلیغ چھوڑ دیا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قائم فرمایا تھا۔آپ ہی آپ ایک نئی شاہراہ اختیار کر لی ہے اور یہ سمجھنا شروع کر دیا ہے کہ فلاں طریق تبلیغ زیادہ مفید ہے۔حالانکہ بسا اوقات معترض بات کچھ اور کرتا ہے اور اس کے پیچھے کوئی اور بات ہوتی ہے۔یہ ظاہری بات کا جواب دے دیتا ہے اور جو پیچھے اصل محرک کام کر رہا ہوتا ہے اس کو نظر انداز کر دیتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ پھنس جاتا ہے اور دشمن کو جنسی کا موقع مل جاتا ہے۔اگر وہی طریق اختیار کیا جائے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اختیار کیا تھا تو یہ مشکلات پیش نہ آئیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ زمانہ کے حالات کے مطابق بعض دفعہ تبلیغ کے طریقوں میں بھی تبدیلی کرنی پڑتی ہے مگر میرے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو طریق اختیار کیا تھاوہ اب بھی ضروری ہے اور اسے کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔میں دیکھتا ہوں کہ وفات مسیح وغیرہ مسائل کی طرف بہت کم توجہ کی جاتی ہے اور یہ نہیں سمجھا جاتا کہ دشمن ہمیں گھسیٹ کر اپنے میدان میں لے گیا ہے اور یہ ہمارے لئے نہایت خطر ناک بات ہے۔کامیاب جر نیل ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو دشمن کو اپنے میدان میں لاتا ہے۔چنانچہ جنگوں میں عام طریق یہی ہوتا ہے کہ زمین میں سرنگیں بچھا دی جاتی ہیں اور کوشش کی جاتی ہے کہ دشمن اس طرف آجائے۔جب دشمن وہاں پہنچتا ہے تو سر نگیں اُڑا دی جاتی ہیں اور دشمن تباہ ہو جاتا ہے۔اسی لئے ہو شیار دشمن بجائے دوسرے کی بچھائی ہوئی سر نگوں میں جانے کے کوشش کرتا ہے کہ اس کو اپنے میدان میں لے آئے اور اسے تباہ کر دے۔اس قسم کی غلطیاں جو تبلیغ میں ہو رہی ہیں اسی لئے ہو رہی ہیں کہ جماعتیں ہم سے بار بار مشورہ نہیں لیتیں، ہمارے سامنے اپنے حالات نہیں رکھتیں اور ہماری ہدایت اور راہ نمائی کے ماتحت کام نہیں کرتیں۔اگر با قاعدہ بحث مباحثہ اور تحقیق و تدقیق سے کام لیا جائے تو خود بخود صحیح راستے نکلتے چلے آئیں اور مشکلات کا پیدا ہونا بہت ہی کم ہو جائے۔پھر سب جگہوں کے حالات ایک جیسے نہیں ہو سکتے اور نہ ہر علاقہ میں ایک جیسا طریق مفید ہو سکتا ہے۔کسی علاقہ میں کوئی ذریعہ اختیار کرنا پڑتا ہے اور کسی علاقہ میں کوئی۔پھر مبلغ کے لئے