خطبات محمود (جلد 27) — Page 578
*1946 578 خطبات محمود بھی ضروری ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اور رنگ میں تبلیغ کرے، ہندوؤں کو اور رنگ میں تبلیغ کرے، عیسائیوں کو اور رنگ میں تبلیغ کرے۔اور بعض جگہ ایسے مشترک طریق سوچے جن سے بیک وقت ہندوؤں میں بھی تبلیغ ہو سکتی ہو، مسلمانوں میں بھی تبلیغ ہو سکتی ہو، عیسائیوں میں بھی تبلیغ ہو سکتی ہو۔مگر یہ ساری چیزیں ایک ماہر فن سے ہی حاصل کی جاسکتی ہیں۔اپنے طور پر کوئی شخص یہ باتیں نہیں نکال سکتا کیونکہ ہر انسان ماہر فن نہیں ہو تا۔یوں ڈاکٹر دنیا میں ہزاروں موجود ہیں مگر کیا ہر ڈاکٹر ماہر فن ہوتا ہے؟ ایسے بھی ڈاکٹر ہیں جو صرف معمولی مرضوں کا علاج کرنا جانتے ہیں۔جب مرض بڑھ جائے تو کہہ دیتے ہیں کہ ضلع میں جاؤ۔وہاں کے ڈاکٹر ناکام ہوتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ لاہور جاؤ۔لاہور میں علاج نہیں ہو سکتا تو کہہ دیتے ہیں کہ بمبئی یا کلکتہ جاؤ۔بمبئی اور کلکتہ میں بھی علاج نہیں ہو سکتا تو کہتے ہیں کہ ولایت جاؤ یا امریکہ جاؤ۔ممکن ہے وہاں کے ڈاکٹر اس مرض کا علاج کر سکیں۔اگر کتاب پڑھ کے ہی ہر شخص علاج کر سکتا تو پھر کسی مریض کو ضلع کے صدر مقام میں اور پھر لاہور اور بمبئی اور کلکتہ اور یورپ اور امریکہ میں جانے کی کیا ضرورت تھی۔یہ ضرورت اسی لئے پیش آتی ہے کہ ڈاکٹر تو بہت ہوتے ہیں مگر ماہر فن ڈاکٹر بہت کم ہوتے ہیں۔اسی طرح محض عالم ہو جانے یا محض مبلغ ہو جانے کے یہ معنے نہیں کہ وہ اپنے فن کی تمام باریکیوں کو سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔جیسے ڈاکٹر ہونے کے یہ معنے نہیں کہ وہ ڈاکٹری کی تمام باریکیوں کو سمجھنے لگ گیا ہے۔دنیا میں ایسے ڈاکٹر بھی ہیں جو نزلہ اور زکام کا بھی علاج کرنا نہیں جانتے اور ایسے ڈاکٹر بھی ہیں جو معدہ اور جگر اور دل چیر پھاڑ کر پھر ان کو اصل مقام پر رکھ دیتے ہیں اور انسان تندرست ہو کر چلنے پھرنے لگ جاتا ہے۔پس محض عالم یا محض مبلغ ہونے اور ایک ماہر فن ہونے میں بہت بڑا فرق ہے۔پس مبلغوں کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہئے۔بے شک وہ عالم ہیں مگر میں ان سے کہتا ہوں ایاز قدرے خود بشناس“۔تمہارے مبلغ بن جانے کے یہ معنے نہیں کہ تم فن کی تمام باریکیوں سے واقف ہو گئے ہو اور اب تم دوسرے کے مشورہ کے محتاج نہیں رہے۔میں دیکھتا ہوں کہ عام طور پر ہماری جماعت کے افراد میں یہ نقص پایا جاتا ہے کہ جب ان میں سے کسی کو مبلغ یا کسی محکمہ کا انچارج بنادیا جاتا ہے تو بجائے اپنی کمزوری محسوس کر کے