خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 573 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 573

1946ء 573 خطبات محمود ول تو وہ سمجھتا ہے اب میرے لئے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں۔ میں خود اس کام کا اہل ہوں اور جس طرح چاہوں اس کام کو چلا سکتا ہوں۔ حالانکہ وہ صرف ایک حد تک اہل ہوتا ہے کلی طور پر اہل نہیں ہوتا۔ اور اور کلی طور پر اہل نہیں ہو سکتا جب تک وہ مرکز سے اپنا تعلق نہیں رکھتا، مرکز سے مدد نہیں مانگتا اور مرکز کو اپنے حالات کی پوری با قاعدگی سے اطلاع نہیں دیتا۔ صوبیدار کئی سپاہیوں پر افسر ہوتا ہے مگر کیا کبھی اکیلا صو بیدار لڑائی لڑ سکتا ہے؟ پھر لفٹنٹ کئی صوبیداروں پر افسر ہوتا ہے مگر کیا اکیلا لفٹنٹ لڑائی کر سکتا ہے؟ پھر کپتان کئی لفٹنٹوں پر افسر ہوتا ہے مگر کیا اکیلا کپتان بھی لڑائی کر سکتا ہے؟ پھر کپتان سے اوپر میجر اور کرنل ہوتے ہیں مگر کیا میجر اور کرنل بھی اکیلے لڑ سکتے ہیں ؟ وہ اُس وقت تک دشمن سے لڑ نہیں سکتے جب تک مرکز کو اپنے حالات کی اطلاع نہ دیں اور مرکز ان کی رہنمائی نہ کرے۔ اس کے بعد کمانڈر انچیف ہوتا ہے مگر کیا کمانڈر انچیف بھی مرکز کی راہنمائی سے مستغنی ہوتا ہے؟ وہ بھی لڑائی نہیں کر سکتا جب تک وزیر جنگ سے مشورہ نہ لے اور اس کی ہدایات پر عمل نہ کرے۔ غرض ہر جگہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ مرکز کو باخبر رکھا جائے۔ مرکز میں باقاعدہ رپورٹیں ارسال کی جائیں، مرکز سے ہدایات حاصل کی جائیں اور مرکز کے مشوروں کے مطابق کام کیا جائے۔ مگر ہماری جماعت کے بعض افراد میں یہ نہایت خطرناک نقص پیدا ہو چکا ہے کہ جب کوئی کام ان کے سپر د کیا جاتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ اب ہم کسی کے مشورہ کے محتاج نہیں۔ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں حالانکہ ان کی عقل ناقص ہوتی ہے، ان کا تجربہ ناقص ہوتا ہے ، ان کا علم ناقص ہوتا ہے، ان کا عمل ناقص ہوتا ہے اور وہ مرکز کے مشورے اور اس کی مدد کے بغیر ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے درخت سے کٹی ہوئی شاخ ۔ مگر وہ اس کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے اور اپنے زعم میں یہ کہتے ہیں کہ ہم سے بڑھ کر اس کام کا کون اہل ہے۔ اب ہمیں مرکز کی راہنمائی کی ضرورت نہیں۔ یہ مرض اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ بعض مبلغ بھیجے جاتے ہیں تو وہ دو دو تین تین ماہ بلکہ سال سال بھر خاموش رہتے ہیں اور اپنے اپنے ناقص دماغ کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سب کچھ کر سکتے ہیں حالانکہ اگر وہ سب کچھ کر سکتے تو خدا نے ان کو کیوں خلیفہ نہ بنایا۔ پھر تو چاہئے تھا وہ خلیفہ بنتے، میں خلیفہ نہ بنتا۔ پس ان کا اپنے کام کی رپورٹ نہ بھیجوانا اس بات کی علامت نہیں ہوتی کہ ان