خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 574

*1946 574 خطبات محمود میں عقل ہے بلکہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ ان کی عقل کا خانہ بالکل خالی ہے اور وہ اتنی معمولی سی بات کو بھی نہیں سمجھتے کہ خدا نے ہم کو ایک چھوٹی سی اینٹ بنایا ہے، مکان نہیں بنایا۔مگر کیسے تعجب کی بات ہے ایک اینٹ تو سمجھتی ہے کہ وہ اینٹ ہے، ایک پتہ تو سمجھتا ہے کہ وہ پتہ ہے، ایک پھل تو سمجھتا ہے کہ وہ پھل ہے، ایک بیج تو سمجھتا ہے کہ وہ بیج ہے مگر ہمارا مبلغ اس بات کو بھول جاتا ہے کہ میں ایک بیج ہوں لاکھوں بیجوں میں سے ، میں ایک دانہ ہوں کروڑوں دانوں میں سے، میں ایک پتہ ہوں کروڑوں پتوں میں سے، میں ایک پھل ہوں کروڑوں پھلوں میں سے۔ایک پھل درخت کا قائم مقام نہیں ہو سکتا۔نہ ایک دانہ کھیتی کا قائمقام ہو سکتا ہے۔مگر جہالت اور نادانی کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ حقیقت جو ایک جاہل اور ان پڑھ صوبیدار جانتا ہے ہمارا مبلغ اس کو نہیں سمجھتا۔وہ اپنے مقام کو شناخت نہیں کرتا اور مرکز سے اپنے آپ کو مستغنی سمجھنے لگ جاتا ہے۔یہ ایک مرض ہے جو ہمارے نوجوانوں میں پیدا ہو رہا ہے کہ جب انہیں کسی کام پر مقرر کیا جائے تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کو بھی برباد کرتے ہیں اور سلسلہ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں اور پھر اپنے حالات سے مرکز کو باخبر نہ رکھنے کی وجہ سے مرکز سے بالکل کٹ جاتے ہیں اور ایسے بھی ہو جاتے ہیں جیسے غیر احمدی۔کیونکہ وہ شاخ جس کا اپنے درخت سے تعلق ہے وہی سرسبز رہ سکتی ہے خواہ وہ کس قدر کمزور اور ناطاقت کیوں نہ ہو۔لیکن ایک شاخ خواہ کس قدر سر سبز اور مضبوط ہو ، تم اسے درخت سے کاٹ کر پھینک دووہ دو چار دن میں سوکھ کر کانٹا ہو جائے گی اور اس کی تمام سر سبزی اور تمام شادابی اور تمام لطافت جاتی رہے گی۔پس میں سمجھتا ہوں کام لینے والوں میں بھی ابھی یہ احساس پیدا نہیں ہوا کہ وہ بیداری سے کام لیویں اور پھر کام کرنے والوں کو بھی اپنی ذمہ داری کا پوری طرح احساس نہیں۔دونوں طرف غفلت طاری ہے اور اس غفلت کے نتائج کبھی اچھے نہیں نکل سکتے۔اس موقع پر میں بیرونی جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی تنظیم کریں۔اور تنظیم کے معنے یہ ہیں کہ وہ با قاعدہ اور بار بار مرکز میں اپنی رپورٹیں بھیجیں اور ہم سے اپنی مشکلات میں مشورہ حاصل کریں۔جب تک وہ بار بار مرکز کی طرف رجوع نہیں کریں گے اور