خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 567 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 567

*1946 567 خطبات محمود اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر جو انعامات نازل ہوں انہیں لوگوں کے سامنے بیان کیا کرو۔یہ حکم ہے جو ہر مومن کو دیا گیا ہے اور جس کے بعد ہر مومن کا فرض ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب کوئی نعمت ملے اس کا لوگوں میں ذکر کیا کرے۔مگر کیا تم سمجھتے ہو اگر تمہیں کپڑ امل جائے تو تمہیں اس کا ذکر کرنا چاہئے، تمہیں روٹی مل جائے تو تمہیں اس کا ذکر کرنا چاہئے مگر تمہیں نبی مل جائے تو تمہیں اس کا ذکر نہیں کرنا چاہئے ؟ روپیہ اور کپڑے اور کھانا تو ایک مادی چیز ہیں جن کا جسمانی حیات کے ساتھ تعلق ہے لیکن نبوت ایک روحانی نعمت ہے جو انسان کی دنیوی اور اُخروی دونوں زندگیوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔اگر ایک مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ کپڑے پر خدا کا شکر ادا کرے، اگر ایک مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ روٹی ملنے پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور لوگوں میں اس کا اظہار کرے تو نبی ملنے پر اسے کس قدر بے تابی کے ساتھ اس نعمت کا اظہار کرنا چاہئے۔یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا سمجھنالوگوں کے لئے مشکل ہو۔جب رسول کریم صلی ال نیلم نے مکہ فتح کر لیا اور اس کے بعد بعض اور جنگیں ہوئیں تو ایک الشرسة جنگ کے بعد غنیمت کے وہ اموال جو آپ کو حاصل ہوئے تھے اُن کا کثیر حصہ رسول کریم صلی للی کنم نے مکہ والوں میں تقسیم کر دیا یہاں تک کہ ایک ایک آدمی کو آپ نے دو دو تین تین سو اونٹ دے دیئے۔جب رسول کریم صلی الیہ کا مال غنیمت تقسیم فرما چکے تو مدینہ کے بعض نوجوانوں کے دلوں پر یہ بات نہایت گراں گزری اور ان میں سے بعض نے کہا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور غنیمت کے اموال اور اونٹ محمد رسول اللہ صلی العلیم نے اپنی قوم کو دے دیئے ہیں۔یہ بات رسول کریم صلی الی تم کو بھی پہنچ گئی۔آپ نے انصار کو جمع کیا اور فرمایا۔اے انصار ! میں نے سنا ہے تم میں سے بعض نوجوانوں نے یہ بات کہی ہے کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور محمد رسول اللہ صلی لی ایم نے اونٹ اور غنیمت کے اموال اپنے رشتہ داروں کو دے دیئے ہیں۔انصار نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ بات تو ٹھیک ہے مگر ہم میں سے بعض بیوقوف نوجوانوں نے کہی ہے۔ہم اِس سے سخت بیزاری اور نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ہمارا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔رسول کریم صلی اللہ ﷺ نے فرمایا۔بے شک تم نے یہ بات نہیں کہی مگر یہ ایک بات ہے جو کسی کے منہ سے نکل گئی اور اب اسے واپس نہیں لیا جاسکتا۔پھر آپ نے الله سة