خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 552

*1946 552 خطبات محمود اور اس نے اس سکیم کو کامیاب بنانے کی کوشش نہیں کی جو خلیفہ وقت کے منہ سے نکلی۔تو چاہے صدر انجمن احمد یہ نام رکھ لو یا کچھ اور۔یہ ایک ذلیل ترین چیز ہو گی۔پس میں جماعتوں کو متنبہ کرتا ہوں اور انہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں اس چیز کو دیکھ رہا ہوں اور افسوس سے دیکھ رہا ہوں۔اگر انہوں نے اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کی تو شاید مجھے کوئی ایسا قدم اٹھانا پڑے گاجوان کے لئے تکلیف دہ ہو۔جماعت کا ہر فرد جو اس سلسلہ میں منسلک ہے اُس کا فرض ہے کہ امام کی طرف سے جو بھی آواز بلند ہو اس پر خود بھی عمل کرے اور دوسروں کو بھی عمل کرنے کی تحریک کرے۔اور چاہے صدر انجمن احمدیہ ہو یا کوئی اور انجمن۔حقیقی معنوں میں وہی انجمن سمجھی جاسکتی ہے جو خلیفہ وقت کے احکام کو ناقدری کی نگاہ سے نہ دیکھے بلکہ ان پر عمل کرے اور کرتی چلی جائے اور اس وقت تک آرام کا سانس نہ لے جب تک ایک چھوٹے سے چھوٹا حکم بھی ایسا موجود ہو جس پر عمل نہ کیا جاتا ہو۔پس ہر احمدی جس نے منافقت سے میری بیعت نہیں کی اور ہر احمدی جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور سر خرو ہونا چاہتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ خلیفہ وقت کے احکام پر عمل کرنے اور دوسروں سے عمل کرانے کے لئے کھڑا ہو جائے اور صرف اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے متعلق جوابدہ سمجھے۔اگر امام کی طرف سے ایک آواز بلند ہوتی ہے، سننے والے سنتے ہیں اور پھر اس پر عمل کرنے کی بجائے پیٹھ پھیر کر چلے جاتے ہیں تو خواہ اس قسم کا کام کرنے والی صدر انجمن احمد یہ ہو، خواہ تحریک جدید کا کوئی سیکرٹری ہو، خواہ فنانشل سیکرٹری ہو یا امیر جماعت مقامی ہو یا کوئی اور عہدیدار ہو۔وہ محض اپنے نام سے اللہ تعالیٰ کے حضور سر خرو نہیں ہو سکتے۔ان کے متعلق یہی کہا جائے گا کہ ان کا عمل منافقانہ عمل ہے اور ان کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے اپنے امام کے ہاتھ پر بیعت کی ہوئی ہے ایک جھوٹا دعویٰ ہے۔جب رسول کریم صلی لی ایم کی وفات ہوئی اس وقت حضرت ابو بکر نے ایک تقریر کی۔جس میں فرمایا اے لوگو! تم میں سے جو شخص محمد رسول اللہ صلی الم کی عبادت کیا کرتا تھا اسے معلوم ہونا چاہئے کہ محمد رسول اللہ صلی الظالم فوت ہو چکے ہیں۔لیکن وہ شخص جو خد اتعالیٰ کی عبادت کیا کرتا تھا اسے معلوم ہونا چاہئے کہ ہمارا خدا زندہ ہے اور وہ کبھی مر نہیں سکتا۔8 اسی طرح سة