خطبات محمود (جلد 27) — Page 553
*1946 553 خطبات محمود میں کہتا ہوں جس نے خلیفہ وقت کی بیعت کی ہے اسے یاد رکھنا چاہئے کہ خلیفہ وقت کی بیعت کے بعد اس پر یہ فرض عائد ہو چکا ہے کہ وہ اس کے احکام کی اطاعت کرے۔اور اگر کسی نے صدر انجمن احمدیہ کی بیعت کی ہے تو اس سے خدا وہی معاملہ کرے گا جو صدر انجمن احمدیہ کی بیعت کے نتیجہ میں ہو سکتا ہے۔خلیفہ وقت کی بیعت کرنے والوں میں وہ شامل نہیں ہو گا۔پس میں جماعت کو پھر متنبہ کرتا ہوں کہ اسے اپنے حالات کی اصلاح کرنی چاہئے۔ہمارے سپر د ایک بہت بڑا کام ہے اور وہ کام کبھی سر انجام نہیں دیا جاسکتا جب تک ہر شخص اپنی جان اس راہ میں لڑا نہ دے۔پس تم میں سے ہر شخص خواہ دنیا کا کوئی کام کر رہا ہو اگر وہ اپنا سارا زور اس غرض کے لئے صرف نہیں کر دیتا، اگر خلیفہ وقت کے حکم پر ہر احمدی اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار نہیں رہتا، اگر اطاعت اور فرمانبرداری اور قربانی اور ایثار ہر وقت اس کے سامنے نہیں رہتا تو اس وقت تک نہ ہماری جماعت ترقی کر سکتی ہے اور نہ وہ اشخاص مومنوں میں لکھے جاسکتے ہیں۔یادر کھو! ایمان کسی خاص چیز کا نام نہیں بلکہ ایمان نام ہے اس بات کا کہ خد اتعالیٰ کے قائم کردہ نمائندہ کی زبان سے جو بھی آواز بلند ہو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے۔اگر اسلام اور ایمان اس چیز کا نام نہ ہوتا تو محمد صلی الم کے ہوتے کسی مسیح کی ضرورت نہیں تھی۔لیکن اگر محمد صلی اللہ نیلم کے ہوتے مسیح موعود کی ضرورت تھی تو مسیح موعود کے ہوتے ہماری بھی ضرورت ہے۔ہزار دفعہ کوئی شخص کہے کہ میں مسیح موعود پر ایمان لاتا ہوں، ہزار دفعہ کوئی کہے کہ میں احمدیت پر ایمان رکھتا ہوں۔خدا کے حضور اس کے ان دعوؤں کی کوئی قیمت نہیں ہو گی جب تک وہ اس شخص کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دیتا جس کے ذریعہ خدا اس زمانہ میں اسلام قائم کرنا چاہتا ہے جب تک جماعت کا ہر شخص پاگلوں کی طرح اس کی اطاعت نہیں کرتا اور جب تک اس کی اطاعت میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ بسر نہیں کرتا اس وقت تک وہ کسی قسم کی فضیلت اور بڑائی کا حقدار نہیں ہو سکتا۔پس میں جماعت کو ایک دفعہ پھر بیدار کرتا ہوں اور ایسے وقت میں بیدار کرتا ہوں جبکہ حالات نہایت نازک صورت اختیار کر رہے ہیں۔ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ اپنے اندر ایک نیا تغیر پیدا کرے، ایک نئی زندگی پیدا کرے، ایک نئی بیداری پیدا کرے اور اسلام کی ترقی کے لئے جن قربانیوں کی ضرورت ہے اُن میں بڑھ چڑھ کر سة