خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 547

*1946 547 خطبات محمود دیکھنے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ ہر ہفتہ میں کئی روپے اس پر خرچ ہو جاتے ہیں۔اگر فی ہفتہ دو روپے بھی اوسط رکھی جائے تو آٹھ روپیہ ماہوار ایک شخص کا سینما پر خرچ ہوتا ہے۔اگر ایک خاندان کے چار افراد ہوں تو بتیس روپیہ ماہوار اُن کا خرچ ہو گا۔اس کے معنے یہ ہیں کہ ایک اوسط درجہ کے خاندان کا چار سو روپیہ سالانہ سینما پر خرچ آتا ہے اور دس سال میں چار ہزار روپیہ خرچ ہو جاتا ہے۔عورتوں نے اس کی معقولیت تسلیم کی اور کہا کہ ہم اپنے پروگرام میں اس چیز کو ضرور شامل کریں گی۔چنانچہ کل جہلم سے ایک احمدی خاتون کا خط آیا ہے۔وہ لکھتی ہیں۔یہاں مسلمان عورتوں کا ایک جلسہ ہوا جس میں لاہور سے بھی تقریر کرنے والی عورتیں آئیں اور اُن سب نے اس موضوع پر تقریریں کیں کہ آئندہ ہمیں ایک کھانا کھانا چاہئے ، سادہ کپڑے پہنے چاہئیں، زیورات پر کم خرچ کرنا چاہئے ، مسلمانوں سے اپنی ضرورت کی اشیاء خریدنی چاہئیں، شادی بیاہ پر اسراف سے کام نہیں لینا چاہئے اور سینما نہیں دیکھنا چاہئے۔وہ کہتی ہیں۔میں اُن کی تقریریں سنتی تو مجھے یوم معلوم ہوتا کہ گویا تحریک جدید کے قواعد اور اصول ہی وہ جلسہ میں سنارہی ہیں۔اسی طرح اور جگہوں سے بھی رپورٹیں آرہی ہیں کہ عورتوں میں یہ تحریک بڑے زور سے جاری ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ جب عورتوں میں یہ تحریک پورے طور سے کامیاب ہو گئی تو آہستہ آہستہ مرد بھی اس طرف متوجہ ہو جائیں گے بلکہ مردوں میں بھی سینما کے خلاف تحریک شروع ہو گئی ہے۔ہمارا کام تو صرف اتنا ہوتا ہے کہ نیک تحریک کر دی۔جو لوگ اخلاص رکھنے والے ہوتے ہیں وہ آپ ہی اس پر عمل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔لیکن مسلمانوں کے ہاں یہ بات نہیں۔ان کے ہاں ڈنڈے سے کام لیا جاتا ہے۔چنانچہ جالندھر میں انہوں نے سینما پر پکٹنگ (Picketing) کا انتظام کیا ہے۔مسلمان سونٹے لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور جو لوگ سینما دیکھنے کے لئے آتے ہیں انہیں منت سماجت سے روکتے ہیں اور اگر وہ پھر بھی باز نہ آئیں تو ان سے لڑنے جھگڑنے لگ جاتے ہیں۔یہ ہماری جماعت کے لئے کتنی بڑی خوشی اور اس کے ایمان کو کتنی عظیم الشان ترقی دینے والی بات ہے کہ جو چیز آج سے بارہ سال پہلے 1934ء میں میں نے جماعت کے سامنے رکھی تھی اور ان دنوں رکھی تھی جبکہ احرار نے ہماری جماعت کو مٹانے کی متحدہ کوشش شروع