خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 543

*1946 543 خطبات محمود بارش کی وجہ سے گر گیا ہے اپنے اخراجات میں کفایت سے کام نہیں لے گا اور دوسروں کے مقابلہ میں تھوڑے روپوں پر گزارہ نہیں کرے گا اس وقت تک وہ اپنا مکان دوبارہ تعمیر نہیں کر سکتا۔اگر وہ اپنا مکان بنانا چاہے گا تو یہ لازمی بات ہے کہ سال دو سال تک اسے اپنے اخراجات میں کمی کرنی پڑے گی۔اگر وہ کم نہیں کرے گا تو بہر حال اسے قرض لے کر اپنا مکان بنانا پڑے گا اور پھر ممکن ہے قرض اُتارنے کے لئے اسے اپنا مکان کسی دوسرے کے پاس رہن رکھنا پڑے۔پس گو آمدن سب کی برابر ہو گی لیکن حالات کے بدلنے کی وجہ سے اس پر اور قسم کے بوجھ ہوں گے اور اُس پر اور قسم کے۔اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے ہمیشہ اپنی جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ اسے بدلے ہوئے حالات کے مطابق اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اگر ایک مکان بنانے والے کو اپنے حالات بدلنے پڑتے ہیں، اگر شادی بیاہ کرنے والے کو اپنے حالات بدلنے پڑتے ہیں، اگر علاج کرانے والے کو اپنے حالات بدلنے پڑتے ہیں اور اسے اپنی آمدن میں سے ایک حصہ ان اشیاء کے لئے الگ کرنا پڑتا ہے تو وہ قوم جس کے ذمے ساری دنیا کی روحانی فتح ہے اور جس نے دنیا کو بدل کر ایک نئے رنگ میں ڈھالنا ہے اُس کے لئے اپنے حالات میں کتنے بڑے تغیر اور کتنی عظیم الشان تبدیلی کی ضرورت ہے۔پھر ہماری جماعت کے ذمہ یہ بھی کام ہے کہ وہ غریبوں اور امیروں میں مساوات قائم کرے۔اور وہ خلیج جو ان دونوں میں حائل ہے اُسے دور کرے۔پھر ہماری جماعت کے ذمہ یہ بھی کام ہے کہ وہ اُن اخلاق حسنہ کو دوبارہ قائم کرے جو محمد رسول اللہ صلی ا ہم نے دنیا میں قائم کئے۔آخر اللہ تعالی نے جو ہمیں کھڑا کیا ہے تو اس لئے تو کھڑا نہیں کیا کہ پہلے دنیا میں فساد کم تھا اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ایک اور جماعت کو کھڑا کر کے اس فساد کو اور بھی بڑھا دے۔آخر کوئی چیز تھی جو کھوئی گئی تھی اور اس چیز کو واپس لانا اللہ تعالیٰ کے منشاء میں داخل تھا۔رسول کریم ملی لی ہم پر جب غارِ حرا میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے کرتے اُس کا کلام پر جب نازل ہوا اور فرشتہ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو کر کہا اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبَّكَ الَّذِي خَلَقَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَق اِقْرَأْ وَ رَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِى عَلَمَ بِالْقَلَم - عَلَمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ - 2 تو رسول کریم صلی ا لی نیلم نے اپنی ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے گھبر اہٹ محسوس کی کہ اتنا بڑا کام جو