خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 527

*1946 527 خطبات محمود ا حکم سے ہم ان کو باہر داخل کرنے پر مجبور ہوئے۔مگر جب سلسلہ کی طرف سے لکھا گیا کہ ان لڑکوں کو باہر کے کسی کالج میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی تو اس کے بعد بھی غالب خیال یہی ہے کہ ان لڑکوں کو باہر کے کالج میں داخل کرا دیا گیا ہے کیونکہ وہ لڑکے اب تک یہاں کالج میں داخل نہیں ہوئے۔گویا مجھ سے جو کچھ پوچھا گیا تھا وہ محض مجھے دھوکا دینے کے لئے تھا۔دیانتداری پر مبنی نہیں تھا۔انہوں نے مجھ سے چالا کی کرنی چاہی تھی مگر میں نہیں پکڑا گیا بلکہ وہ خود پکڑے گئے۔ایسے واقعات نہایت افسوسناک ہیں۔کاش! میرا یہ شبہ غلط نکلے اور اس کے بعد وہ لڑکے قادیان میں داخل ہو گئے ہوں۔ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے لڑکے قادیان بھجوا کر انہیں تعلیم دلوائے۔سر دست ہمارا ہر سال پندرہ سو لڑکا انٹر نس (Entrance) کی جماعتوں میں جانا چاہئے اور کم سے کم پانچ سات سو لڑ کا کالجوں میں جانا چاہئے۔اس وقت مسلمانوں میں ہر سال چار سو کے قریب گریجوایٹ نکلتے ہیں۔اگر ہم صحیح طور پر کوشش کریں تو چار سو گریجوایٹ سالانہ ہم اپنی جماعت میں سے پیدا کر سکتے ہیں اور اس طرح علمی لحاظ سے ان پر بہت بڑا تفوق حاصل کر سکتے ہیں۔لیکن اگر علمی تفوق کو جانے دو تب بھی ہماری مذہبی ضرورتیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ہم اپنی جماعت میں زیادہ سے زیادہ تعلیم رائج کریں۔اگر ہم میں تعلیم نہیں ہو گی تو ہم اتنے مبلغ پیدا نہیں کر سکیں گے جتنے مبلغوں کی ہمیں ضرورت ہے۔اس وقت ہمیں ہزاروں مبلغ چاہئیں لیکن اس ضرورت کے مقابلہ میں ہمارا تعلیمی معیار بہت کم ہے بلکہ جو تعلیم کا معیار اس وقت دوسری قوموں میں پایا جاتا ہے وہ بھی ہمارے لئے کافی نہیں۔اگر وہی معیار ہمارے اندر آجائے تو ہم ہزاروں نہیں سینکڑوں نہیں درجنوں مبلغ بھی ہر سال پیدا نہیں کر سکتے۔پس ہمیں اپنے معیار کو بلند کرنا ہو گا۔نہ صرف بلند بلکہ بہت زیادہ بلند۔قوموں کے مقابلہ کو نظر انداز کرتے ہوئے جس قدر زیادہ سے زیادہ تعلیم ایک انسان کے لئے ضروری ہو سکتی ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی جماعت کے ہر فرد میں وہ تعلیم رائج کریں تب ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔3۔دہلی کا سفر اور اس کی غرض: اس کے بعد میں اس سوال کی طرف آتا ہوں جس کے متعلق بہت سے دوستوں کے دلوں میں مختلف قسم کے سوالات اور گد گدیاں پیدا ہوا ا پیدا ہو رہی ہیں۔