خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 515

1946ء 515 خطبات محمود پہلے ایک قبیلہ نے پھر دوسرے قبیلہ نے خیمے اکھاڑ نے شروع کر دیئے اور وہ سترہ ہزار کا لشکر صبح تک میدان خالی کر کے چلا گیا۔ اس وقت قبائل میں اس قدر بھا گڑ 11 مچی کہ ابو سفیان کے متعلق تاریخ میں آتا ہے کہ اس کا اونٹ بندھا ہوا تھا۔ وہ جلدی میں بندھے ہوئے اونٹ پر سوار ہو گیا اور اسے سوٹیاں مارنے لگا۔ پاس سے کسی شخص نے توجہ دلائی کہ پہلے اونٹ کے پاؤں کی رسی تو کھول لو پھر اُسے ہانکنا۔ صبح ہونے سے کچھ دیر پہلے رسول کریم صلی علیم نے ایک صحابی کو فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ دشمن بھاگ چکا ہے۔ صحابہ کہتے ہیں۔ سخت سردیاں تھیں۔ رسول کریم صلی علی ایم نے کئی دفعہ کہا کہ کوئی ہے جو جا کر دشمن کی خبر لائے۔ صحابہ کہتے ہیں کہ ہماری زبانیں سردی کے مارے جم رہی تھیں اور ہمارے منہ سے آواز نہ نکلتی تھی۔ آخر ایک صحابی نے کہا یا رَسُولَ اللہ ! میں جاتا ہوں اور دشمن کی خبر لاتا ہوں۔ وہ گئے اور واپس آکر عرض کیا یا رَسُولَ الله الشکر کا تو سوال کیا۔ وہاں تو کچھ بھی نہیں اور میدان خالی پڑا ہے۔ 12 یہ ایک الہی تدبیر تھی جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے کی۔ تو بعض دفعہ اللہ تعالیٰ خطر ناک سے خطر ناک مواقع پر بھی کوئی نہ کوئی رستہ پیدا کر دیتا ہے۔ پس یہ مت سمجھو کہ ہم لوگوں کے دلوں کو کیسے صاف کر سکیں گے اور ان کے دلوں سے بغض اور کینہ کو کس طرح دور کر سکیں گے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے روئیں اور چلائیں کہ اے خدا! تو لوگوں کے دلوں کو صاف کر دے اور آنے والے حالات کے خطر ناک نتائج سے اپنے بندوں کو بچالے۔ اور اسی طرح دوسری پبلک کو بھی ہم یہی تحریک کریں کہ تم اللہ تعالیٰ کے سامنے روڈ اور چلاؤ اور اللہ سے اپنا حق مانگو۔ اور کینوں اور بعضوں کو چھوڑ دو کیونکہ ان سے کام نہیں بنتا۔ اگر ہماری جماعت کو یہ کینے اور بعض لوگوں کے دلوں سے نکالنے کے لئے قربانی بھی کرنی پڑے تو اس سے دریغ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ بظاہر یہ حالات قربانیوں کے بغیر بدلتے نظر نہیں آتے۔ پس سب سے پہلے اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے دلوں کو بدلیں۔ اگر ہم اپنے دلوں کو بدلیں گے تو ہمارے ہمسایوں اور ملنے جلنے والوں پر بھی ہماری باتوں کا اثر ہو گا۔ چونکہ آج میری طبیعت پر بوجھ ہے اس لئے میں لمبا خطبہ نہیں پڑھ سکتا۔ صرف یہی کہتا ہوں کہ آج سے ہماری جماعت کو دعاؤں پر خاص زور دینا چاہئے اور