خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 504

1946ء 504 37 خطبات محمود ہمارے پاس دنیا کو بچانے کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ دعا ہے ( فرمودہ 11 اکتوبر 1946ء بمقام دہلی) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ وو پر ہے۔ " آج مجھے آنے میں دیر ہو گئی ہے کیونکہ میں سخت کوفت محسوس کر رہا تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ میرے اعصاب کام کی زیادتی کی وجہ سے کمزور ہو گئے ہیں۔ اخبار پڑھنے کے لئے چار پائی پر لیٹا۔ گیارہ بجے کے قریب آنکھ لگ گئی اور ساڑھے بارہ بجے کے قریب آنکھ کھلی۔ اس کے بعد نہانے اور کھانا وغیرہ کھانے میں دیر ہو گئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو مشکلات اس وقت ہندوستان میں پیش آرہی ہیں اُن کی بہت بڑی ذمہ داری ہماری جماعت پر ۔ کیونکہ لوگ اپنی تدبیروں سے مشکلات کا علاج کرتے ہیں مگر ہم وہی کام آسمان پر اپنی التجاؤں سے کرتے ہیں۔ میرے اس جگہ آنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ میں قریب رہ کر یہاں کے حالات کا پتہ لگا سکوں اور اس طرح زیادہ دعاؤں کی تحریک ہو گی۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے اختلافات کے متعلق جو خبریں دی ہیں اُن کے بعض حصے پورے ہو چکے ہیں اور بعض پورے ہو رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حصے جو خیر والے ہیں اُن کو پورا کر دے اور جو شر والے ہیں اُن کے بد نتائج سے محفوظ رکھے۔ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ انذاری خبروں کو دعاؤں سے منسوخ کر دیتا ہے۔ اس لئے