خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 42

1946ء 42 خطبات محمود انہیں بانٹ لیں تو ہم اپنا حصہ ضرور لیں گے اس وقت کوئی شخص ہمیں اپنے اپنے حق حق سے سے محروم نہیں کر سکے گا۔ یا فرض کرو ایک کارخانہ کے مزدور اس وجہ سے سٹر اٹک کر دیں کہ کارخانہ کا مالک انہیں روپیہ کی بجائے سوار و پیہ یومیہ مزدوری نہیں دیتا تو ہم احمدیوں کو سٹرائیک کرنے سے روکیں گے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس سے منع فرمایا ہے۔ لیکن اگر کار خانہ کا مالک خود ہی ان کو روپیہ کی بجائے سوار و پیہ یومیہ مزدوری دینا چاہے تو کوئی احمدی بھی ایسانہ ہو گا جو انہیں روکے کہ روپیہ کی بجائے سوار و پیہ تم نہ لو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانہ میں انگریز ملک پر قابض تھے اور وہ حکومت کا کوئی حصہ بھی ہندوستانیوں کو نہیں دیتے تھے۔ ایسی حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سیاست میں حصہ لینے سے منع فرمایا کہ تم اپنی توجہ دین کی طرف رکھو اور ان مطالبات کے پیچھے پڑ کر اپنی توجہ دوسری طرف مت پھیر و۔ لیکن اب جبکہ انگریز خود بلاتے ہیں کہ آؤ اور آکر اپنا حصہ لے لو تو ہم بھی اپنا حصہ لینے کے لئے آگے بڑھتے ہیں۔ اگر اپنا حق جو کہ مل رہا ہو لینے کو سیاست سمجھا جائے تو ایک معترض کہہ سکتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ رسول کریم صلی ا م پر مکہ میں جہاد فرض نہ ہوا اور مدینہ آتے ہی آپ پر جہاد فرض ہو گیا۔ اس کا جواب بھی یہی ہے کہ مکہ کے حالات اور تھے اور مدینہ کے حالات اور ۔ مکہ میں آپ بطور رعایا کے تھے لیکن مدینہ میں آپ کی حیثیت ایک بادشاہ کی تھی۔ اسی طرح پہلے انگریز یہ کہتے تھے کہ ہندوستان کے حاکم ہم ہیں کسی دوسرے کا یہ کام نہیں کہ ہمارے معاملات میں دخل دے۔ لیکن اب حکومت کا اکثر حصہ انگریزوں نے ہندوستانیوں کو دے دیا ہے۔ پس ہم تو اپنے حصے کا تصفیہ کر رہے ہیں اور یہ چیز جماعت کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اور بے شک یہ بظاہر دنیوی نظر آتی ہے لیکن جماعت کی مشکلات کو دور کرنے کے لئے بہت ہی ضروری چیز ہے۔ پس مرد مردوں کا فرض تھا تھا کہ کہ قربانی کا اعلیٰ نمونہ پیش کرتے لیکن لیکن افسوس افسوس ۔ ہے کہ انہوں نے اچھا نمونہ پیش نہیں کیا۔ آج ہی بعض کاموں کے لئے میں نے میاں بشیر احمد صاحب کو ایک کام کی طرف توجہ دلائی تو انہوں نے کہا کہ ہمارے آدمی دن رات کام کرنے کی وجہ سے تھک کر چور ہو چکے ہیں اور سائیکل بھی کوئی نہیں ملتا۔ اس میں شک نہیں کہ خود میاں بشیر احمد صاحب ں