خطبات محمود (جلد 27) — Page 467
*1946 467 (35) خطبات محمود جماعت احمدیہ اپنی ذمہ داریاں سمجھے اور اپنی حالت بدلنے کی کوشش کرے تشهد دنیا پر فرمودہ 27 ستمبر 1946ء بمقام دہلی) تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔مختلف قسم کے دور آتے ہیں۔کوئی امن کا دور ہوتا ہے اور کوئی جھگڑوں کا دور ہوتا ہے، کوئی آرام کا دور ہوتا ہے اور کوئی جد وجہد کا دور ہوتا ہے، کوئی نئی اساس اور نئی بنیاد رکھنے کا دور ہوتا ہے اور کوئی کام کی تکمیل اور خاتمہ کا دور ہوتا ہے۔ان تمام ادوار کے مطابق انسان کے کام اور اُس کی کوششیں بدلتی چلی جاتی ہیں۔اگر انسان موقع کے مطابق محبت اور کوشش سے کام کرے تو کامیاب ہوتا ہے اور اگر اس کی کوششیں موقع کے مطابق نہ ہوں تو اس کی ساری محنت رائیگاں جاتی ہے۔اچھے سے اچھے کام اگر وہ موقع کے مناسب نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ کے دفتر میں گناہ لکھے جاتے ہیں۔پس اصل چیز یہی ہے کہ انسان موقع کے مطابق کام کرے اور انہی طریقوں کو اختیار کرے جن سے دنیا میں امن چین اور اطمینان پید اہو اور دنیا کے لئے ترقی کے سامان پید اہوں۔قرآن کریم میں جہاں کہیں نیک اعمال کا ذکر آتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے اعمالِ صالحہ کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔یہ نہیں فرمایا کہ اچھے کام کرو بلکہ فرمایا کہ اعمالِ صالحہ بجالاؤ۔اعمالِ صالحہ سے مراد وہ کام ہیں جو موقع کے مطابق ہوں۔جیسا زمانہ ہو اس کے مطابق اور اُس کی ضرورت کے مطابق اعمال بجالائیں۔تمام عبادات جن پر ہماری نجات موقوف ہے