خطبات محمود (جلد 27) — Page 455
1946ء 455 خطبات محمود بیعت کے وقت صحابہؓ کے چہروں سے نورِ ایمان دیکھ لیا۔ اس لئے آپ کو کسی عہد کی ضرورت پیش نہ آئی۔ لیکن میں نے وہ نورِ ایمان تمہارے چہروں سے نہیں دیکھا جو رسول کریم صلی اللہ ہم نے اپنے صحابہ کے چہروں سے دیکھا تھا۔ میں نے سمجھا کہ میں تم کو یک دم قربانیوں کے لئے بلاؤں تو تم میں سے کئی مرتد ہو کر بھاگ جائیں۔ اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ تم کو آہستہ آہستہ قربانی کی عادت ڈالوں ا عادت ڈالوں اور اس جماعت کے پیدا کرنے کے لئے لئے میں نے تم میں سے بعض کو بچنا تا کہ وہ دوسروں کے لئے مثال بنیں۔ ان لوگوں میں سے بعض کمزور ثابت ہوئے ہیں۔ بہت سے ثابت قدم بھی ہیں۔ لیکن اب جس قسم کا زمانہ آرہا ہے اِس میں چند آدمیوں سے کام نہیں چل سکے گا۔ اس لئے جماعت وقف کے سلسلہ میں کثرت سے آگے آئے یا پھر جماعت کا ہر فرد اپنے آپ کو وقف سمجھے۔ اور یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرے کہ میری بھلائی ، میری ترقی اور میری راحت اس میں نہیں کہ میں زندہ رہ کر آرام سے دن بسر کروں۔ بلکہ میری خوشی اور میری راحت اس بات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے اِذن ملے تو میں اُس کی راہ میں قربان ہو جاؤں۔“ )الفضل 21 ستمبر 1946ء 1: لگا لگا کھانا: مطابقت کھانا، ہم پلہ ہونا، بر ابر کا ہونا، نسبت رکھنا، (فیروز اللغات اردو جامع مطبوعہ لاہور ) 2: السيرة الحلبية جلد 3 صفحہ 152 153 دار الكتب العلمية بيروت لبنان 2002ء 3: السيرة الحلبية جلد 3 صفحہ 123 دار الكتب العلمية بيروت لبنان 2002ء 4 بخاری کتاب مناقب الانصار باب إِخاءِ النَّبِيِّ صلى اليوم (الخ) 5: بخاری کتاب الرقاق ، باب كَيْفَ كَانَ عَيْشَ النَّبِيِّ صَلَ ال وَ أَصْحَابِهِ (الح)