خطبات محمود (جلد 27) — Page 440
1946ء 440 خطبات محمود اللہ تعالیٰ ہی مسلمانوں کا اور ہمارا محافظ ہے۔ ہماری ترقی دوسرے مسلمانوں کی ترقی سے وابستہ ہے۔ اگر دوسرے مسلمانوں کو اس وقت کوئی نقصان پہنچے تو ہم اس سے بچ نہیں سکتے۔ لہذا ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہم دوسرے مسلمانوں کی بھی مدد کریں لیکن سب سے مقدم فرض اسلام کو مضبوط کرنا ہے، اسی میں ہماری کامیابی ہے۔ ورنہ ہم نے تمام دنیا کے اعمال اور عقائد کی غلطیاں نکال کر اُن کو اپنا دشمن بنا لیا ہے۔ اگر ہم جلدی کامیاب نہ ہوئے تو یہ لوگ اقتدار کے وقت ہماری تکا بوٹی اُڑا دیں گے ۔ آج دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں جو ہم سے خفانہ ہو۔ عوام ہم سے خفا ہیں، لیڈر ہم سے خفا ہیں، سکھ ہم سے خفا ہیں ، عیسائی ہم سے خفا ہیں، کونسی جماعت اور کونسا مذہب ہے جس سے ہماری لڑائی نہیں ہوئی۔ گو یہ لڑائی عقائد کی لڑائی ہے۔ لیکن دنیا میں اس سے زیادہ مشکل لڑائی اور کوئی نہیں۔ باوجود اس کے کہ ہم کسی کو مارتے نہیں بلکہ ماریں کھاتے ہیں پھر بھی دنیا ہماری دشمن ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ عقائد اور خیالات پر جرح کرنا غیر مذاہب والوں کے نزدیک لڑائی سے کم نہیں۔ رسول کریم صلی علیم اور آپ کے صحابہ مکہ میں رض رض میں کسی کو مارتے تو نہ تھے پھر بھی دشمن نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو شدید سے شدید تکلیفیں دیں اور ان کے خلاف قتل کے منصوبے کئے۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ اس کی وجہ یہی تھی کہ رسول کریم صلی علیم اور آپ کے صحابہ مکہ کے کفار کے عقائد اور اعمال کی غلطیاں نکالتے تھے اور آج وہی کام ہم کرتے ہیں۔ اِس لئے ضروری ہے کہ ہم سے بھی ویسی ہی دشمنیاں اور عداوتیں رکھی جائیں۔ اور جب تک ہم یہ کام کرتے ہیں اس وقت تک دنیا ہمیں اپنا دوست نہیں سمجھتی۔ یہ تو صحیح ہے کہ ان کے خلاف ہم سازشیں نہیں کرتے ، نہ ہی ہم ان پر حملہ کے منصوبے کرتے ہیں۔ پھر وہ کیوں ہمارے دشمن ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی جماعت کی قومی روایات پر حملہ کرنا اس کی جانوں پر حملہ کرنے سے زیادہ خطر ناک ہوتا ہے۔ لوگ اپنی جانیں دے دیتے ہیں لیکن اپنی قومی روایات کے برخلاف نہیں سن سکتے کیونکہ قومی روایات پر جو حملہ ہوتا ہے اس سے ساری قومی عمارت گرنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ پس یہ حملہ افراد پر حملہ کرنے سے زیادہ خطر ناک ہوتا ہے۔ کسی سکھ کے مرنے سے سکھوں کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لیکن اگر سکھوں سے یہ کہا جائے کہ حضرت باوانانک مسلمان تھے تو یہ عقیدہ ان کی ساری عمارت کو