خطبات محمود (جلد 27) — Page 432
*1946 432 خطبات محمود نہیں کرتے بلکہ صحابہ کی ایک دن کی تیاری سے دسواں حصہ بھی تیاری نہیں کرتے۔ہر کام کے لئے اس کے مناسب حال محنت اور تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر ایک شخص نے دس سیر آٹا پکانا ہے تو اُسے اُس کے مطابق تیاری کرنی چاہئے۔اور اگر ایک شخص نے ایک سیر آنا پکانا ہے تو اُسے اس کے مطابق تیاری کرنی چاہئے۔لیکن اگر ایک سیر والا تو اپنے لئے سامان جمع کرے اور جتنی چیزوں کی ضرورت ہے وہ سب مہیا کرے لیکن جس نے دس سیر آٹا پکانا ہے وہ نہ لکڑیاں لائے اور نہ ہی دوسرا سامان جمع کرے تو ایسے شخص کو ہر انسان بے وقوف اور بداندیش کہے گا۔فرض کرو کہ ایک شخص کے گھر میں ایک مہمان آتا ہے وہ اس کے لئے بھاگ دوڑ کرتا ہے، بازار سے سود الا تا ہے، اگر کوئی چیز گھر میں موجود نہیں ہے تو وہ ہمسایہ کے گھر سے مانگ لیتا ہے اور اپنے مہمان کو اچھی طرح کھانا کھلاتا ہے۔جب اس کا مہمان کھانا کھالے گا تو وہ اس کے لئے عزت کا موجب ہو گا اور اسے عین وقت پر کوئی پریشانی نہ ہو گی۔کیونکہ اس نے تمام اشیاء وقت سے پہلے جمع کر لی تھیں۔لیکن ایک دوسرا شخص ہے جس کے گھر میں سو مہمان آئے ہیں لیکن اسے کوئی فکر نہیں۔ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے کہ ابھی بہت وقت ہے سب انتظام ہو جائے گا لیکن کھانے کے وقت وہ مہمانوں کے کھانے کا انتظام نہیں کر سکا تو جو اسے ندامت اٹھانی پڑے گی اس کا قیاس بھی نہیں کیا جاسکتا۔عقلمند انسان وہی ہوتا ہے جسے یہ احساس ہو کہ مجھے ان ان چیزوں کی ضرورت پڑنے والی ہے اور وہ ان کے لئے پہلے سے تیاری شروع کر دے۔پس اگر ہم پورے طور پر تبلیغ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں عرب سے تین سو ساٹھ گنے زیادہ تبلیغ کرنی چاہئے اور ہمیں صحابہ سے تین سو ساٹھ گنے زیادہ قربانی کرنی چاہئے۔صحابہ کی شاندار قربانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت جلد فتح عطا کی۔مہاجرین اور انصار کے نام اس لئے عزت سے لئے جاتے ہیں کہ انہوں نے بہت شاندار قربانیاں پیش کیں اور اپنی جان و مال اور عزت ہر چیز کی قربانی کر کے اسلام کی بنیاد قائم کی۔صحابہ کے بعد حضرت امام ابو حنیفہ ، حضرت امام مالک، حضرت امام حنبل ، حضرت امام شافعی جیسے لوگ آئے۔ان لوگوں نے بھی اسلام کی بہت خدمت کی لیکن ان کا کام ایسا ہی تھا کہ مکان بن چکا ہو اور اس میں بیل بوٹے بنائے جائیں۔بے شک یہ لوگ بھی بڑے پائے کے