خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 431

1946ء 431 خطبات محمود ہماری کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے ابتلاؤں کے زمانہ کو لمبا کر دیا تا کہ ہمیں تکالیف سہنے کی عادت پیدا ہو جائے اور جوں جوں ہماری طاقت بڑھتی جائے ، تُوں تُوں ہم پر آہستہ آہستہ بوجھ لادا جائے۔ لیکن اب میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کے لئے ابتلاؤں کے دن قریب سے قریب تر ہوتے جارہے ہیں اور اِس وقت اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ہم تبلیغ کو وسیع کریں اور تبلیغ کے لئے نئے نئے مرکز کھولیں اور ہندوستان اور بیرونی مراکز کو مضبوط کریں۔ اور یہ کام ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ جماعت کی مرکزی ضروریات پوری نہیں ہوتیں اور جب تک مرکز ہر رنگ میں مضبوط نہیں ہو تا اُس وقت تک تبلیغ کو وسعت نہیں دی جاسکتی۔ کام کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو احمدیت کے مقابل پر دو چار لاکھ ، دس لاکھ یا میں لاکھ آدمیوں کو احمدی بنانے کا سوال نہیں بلکہ صرف ہندوستان میں ہی چالیس کروڑ انسان رہتے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد کو احمدیت میں داخل کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو ساری دنیا کے لئے آئے ہیں اور ہم نے ساری دنیا کو احمدی بنانا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے آقا کے نقش قدم پر آئے ہیں۔ رسول کریم صلی علیم کی بعثت تمام دنیا کے لئے تھی۔ اب آپ رض صد الله سلم علیہم کے بعد جو بھی آپ کا غلام آئے گا وہ بھی تمام دنیا تمام دنیا کے لئے آئے گا۔ لیکن رسول کریم صلی ا ہم کو فوری طور پر جس ملک سے واسطہ پڑا اُس وقت اُس کی تعداد دس بارہ لاکھ تھی۔ گویا جتنی آبادی اس وقت تمام عرب کی تھی آج اتنی آبادی صرف ضلع گورداسپور کی ہے۔ لیکن کیا ہماری تبلیغ کا وہی حال ہے جو صحابہ کی کی تبلیغ کا تھا۔ اگر صرف ضلع گورداسپور با گورداسپور میں ہی ہماری اکثریت ہو جاتی تو بھی کسی حد تک اپنے آپ کو تبلیغ میں کامیاب سمجھ سکتے تھے لیکن ابھی ضلع گورداسپور میں بھی ہماری تبلیغ موئثر نہیں سمجھی جا سکتی۔ اور پنجاب میں تیس ضلعے ہیں اور پنجاب کی گل آبادی دو کروڑ اسی لاکھ کے قریب ہے۔ گویا رسول کریم صلی الم کے زمانہ سے پچیں گئے زیادہ ہے۔ اس آبادی کے لحاظ سے ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم پچیس گنے زیادہ تبلیغ کریں اور اگر سارے ہندوستان کو تبلیغ کرنا چاہیں تو ہمیں تین سو ساٹھ گنے زیادہ تبلیغ کرنی چاہئے۔ گویا اگر صحابہ کرام نے ایک دن تبلیغ کی تو ہمیں سال بھر تبلیغ کرنی چاہئے۔ لیکن صحابہ نے جو تیاری اپنے اس ایک دن کے لئے کی تھی ہم وہ تیاری تین سو ساٹھ دنوں کے لئے بھی رض