خطبات محمود (جلد 27) — Page 412
1946ء 412 خطبات محمود مذہب کیا ہے؟ تو کہنے لگے آپ اتنی جلدی کیوں کرتے ہیں؟ ذرا سوچ لینے دیں۔ میں نے کہا آپ گھر سے حج کرنے کے لئے آئے ہیں اور آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ آپ کا مذہب کیا ہے؟ میرا مطلب یہ تھا کہ آپ حنفی ہیں یا شافعی ہیں یا اہل حدیث ہیں۔ میرے سوال پر پھر وہ کہنے لگے آپ اتنی جلدی کیوں کرتے ہیں؟ سوچ تو لینے دیں۔ میں نے کہا۔ مذہب تو سوچی ہوئی چیز ہے۔ کچھ دیر کے بعد کہنے لگے کہ میں وطن جا کر اپنے ملا سے لکھوا کر آپ کو بھجوادوں گا۔ میں نے کہا۔ میں آپ کا مذہب پوچھ رہا ہوں آپ کے ملا کا مذہب نہیں پوچھ رہا۔ تو جس طرح کوئی انسان چڑ جاتا ہے اسی طرح انہوں نے چڑ کر کہا کہ آپ اتنی جلدی کیوں کرتے ہیں؟ مجھے سوچ تو لینے دیں۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنے لگے۔ میرا مذہب ہے عَلَيْهِ۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ میرا مذہب امام ابو حنیفہ رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْہ کا مذہب ہے۔ باقی تو وہ کہہ نہ سکے اور صرف علیہ کہہ دیا۔ میں نے کہا علیہ تو کوئی مذہب نہیں۔ پھر کہنے لگے۔ اچھا سوچ تو لینے دیں۔ پھر کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنے لگے میرا مذہب ہے امام علیہ۔ اسی طرح آگے پیچھے کر کے ایک ایک ٹکڑا ملاتے گئے مگر امام ابو حنیفہ رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ نہ کہہ سکے۔ پھر میں نے ان سے پوچھا۔ اچھا آپ یہ تو بتائیے کہ آپ کو حج کرنے کی کیا سو جھی؟ کہنے لگے۔ میں نے کیا حج کرنا تھا۔ میرے بیٹے کہیں سے سن کر آئے کہ فلاں کے باپ نے حج کیا ہے تو میرے بیٹوں نے مجھے مجبور کیا کہ جائے حج کر کے آؤ۔ اس لئے میں حج کرنے کے لئے آگیا ہوں۔ اب یہ بھی عادت پہلے ، فکر پیچھے والی مثال ہے۔ میں نے اُن سے پوچھا تو ان کو فکر لاحق ہوئی اور وہ سوچنے لگے کہ میر امذہب کیا ہے۔ اسی طرح بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ہیں جو نماز اور روزہ بھی بطور عادت کے کرتے ہیں۔ اگر ان کو کوئی پوچھے کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو ان کو فکر لاحق ہوتی ہے ورنہ اندھا دھند عادت کے ماتحت کام کرتے چلے جاتے ہیں۔ بیسیوں غیر احمدی نوجوانوں سے میں نے رسول کریم صلی علیہم کی صداقت کا ثبوت پوچھا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ بس آپ سچے تھے۔ میں نے کہا اس سے تو ہمیں بھی انکار نہیں اور نہ ہی کسی مسلمان کو اس سے انکار ہو سکتا ہے۔ لیکن آخر کوئی دلیل بھی تو ہونی چاہئے۔ اس پر وہ خاموش ہو گئے اور انہوں نے تسلیم کیا کہ ہم نے کبھی اس کے متعلق غور نہیں کیا۔ ایسے لوگوں کو