خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 396

1946ء 396 خطبات محمود اُن میں سے کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں جہاں کہ مسلمانوں کی آواز اثر پیدا کر سکتی ہو۔ ہندوستان کے مشرق میں انڈو نیشیا یعنی جاوا، سماٹرا کے جزائر ہیں جن میں سات کروڑ کے قریب مسلمان ہیں۔ ان ک ۔ ان کی ایک ہی نسل اور ایک زبان اور ایک ہی مذہب یعنی اسلام ہے۔ اسلامی دنیا میں سے صرف یہ ایک حصہ ایسا ہے جہاں کی آبادی بھی اچھی ہے اور جو ایک قوم ہونے اور ایک زبان بولنے کے علاوہ آپس میں متحد ہونے کے خواہشمند ہیں۔ ملایا کا ملک بھی گو ان سے حکومت الگ ہے مگر قوم اور بولی کے لحاظ سے ملتا ہے ۔ وہاں بے شک چینی اور ہندوستانی آبادی بھی ہے مگر اصل ملک ملائیوں کا ہے۔ سماٹرا، جاوا، بور نیو ، جزائر مسلمان ہیں۔ صرف جاوا میں ہی چار کروڑ مسلمان آباد ہیں۔ اس علاقہ میں کوئی دس ہزار کے قریب چھوٹے بڑے جزیرے ہیں جو کہ قریباً سارے کے سارے مسلمان ہیں۔ کوئی پانچ مربع میل کا ہے، کوئی دس مربع میل کا ہے، کوئی ہمیں مربع میل کا ہے، کوئی پچاس مربع میل کا ہے۔ کسی جزیرہ میں بیس ہزار کی آبادی ہے، کسی میں دس ہزار کی آبادی ہے، کسی جزیرہ میں پانچ ہزار کی آبادی ہے، کسی میں دو ہزار کی آبادی ہے، کسی میں ایک ہزار کی آبادی ہے۔ اور سینکڑوں جزیرے ایسے ہیں جن میں کوئی آبادی نہیں اور جہاں انام (Annam)3 اور سیام (Siam)4 ان جزائر سے ملتے ہیں۔ وہاں بھی لاکھوں لاکھ مسلمان موجود ہیں۔ انڈونیشیا کے مسلمانوں نے اس لڑائی میں جو آزادی کے لئے وہاں لڑی جارہی ہے اپنے متحد ہونے کا بہت اچھا نمونہ پیش کیا ہے اور یہ ایسا نمونہ ہے جو ہمیں عربی ممالک میں بھی نظر نہیں آتا۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ عرب کی حکومتیں مصر سے ملنے کو تیار نہیں اور مصر کی حکومت عرب سے متحد ہونے کو تیار نہیں۔ شامی حکومت فلسطینی حکومت سے متحد ہونے کو تیار نہیں اور فلسطینی حکومت شامی حکومت سے متحد ہونے کو تیار نہیں۔ یمن کی حکومت نجد سے تعاون کرنے کو تیار نہیں اور نجد کی حکومت، یمن کی حکومت سے ملنے کو تیار نہیں۔ غرض کوئی علاقہ دوسرے علاقہ کے ماتحت یا اس سے متحد ہونے کو تیار نہیں لیکن انڈو نیشیا کے جزائر نے اس اعلیٰ خوبی کا مظاہرہ کیا ہے جس سے دوسری اسلامی دنیا قاصر رہی ہے۔ ان کی ابھی تک آواز ایک ہے ان کی بولی ایک ہے، ان کی حکومت ایک ہے۔ ڈچوں نے گزشتہ چند ماہ میں بہت کوشش کی ہے کہ ان میں افتراق پیدا کر دیں لیکن