خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 392

*1946 392 خطبات محمود تین یا چار غیر مسلم آتے ہیں۔اگر ایک آدمی کے پاس اسلام جیسی اعلیٰ تعلیم ہو اور وہ دن رات اپنے تین چار ساتھیوں کے سامنے اس کی خوبیاں بیان کرتارہے تو ہو نہیں سکتا کہ اسلام کی اعلیٰ اور فطرت کے مطابق تعلیم دوسروں کے دلوں میں گھر نہ کرے۔اگر آج سے ہی اس طریقہ پر تبلیغ شروع کر دی جائے تو آج سے ہی غیر مسلموں میں یہ احساس پیدا ہو جائے گا کہ ہمارے عقائد میں یہ خرابیاں ہیں اور ہمیں اس مذہب کی تلاش کرنی چاہئے جس میں یہ یہ خرابیاں موجود نہ ہوں۔صرف توحید کا مسئلہ ہی دوسری قوموں کو مٹانے کے لئے کافی ہے۔کسی مذہب میں توحید کا وہ نقشہ نہیں جو اسلام میں ہے۔اس کے علاوہ اسلامی مساوات ایک ایسی چیز ہے جو ہر مذہب والے کا منہ بند کر دیتی ہے۔کوئی مذہب اس رنگ میں مساوات کی تعلیم نہیں پیش کرتا جس رنگ میں اسلام نے پیش کی ہے۔اسلام ایسے روشن دلائل سے مزین ہے کہ دوسرے مذاہب اس کی تاب نہیں لا سکتے۔لیکن مصیبت یہ ہے کہ خود مسلمانوں نے اس کی طرف سے بے تو جنگی پیدا کر لی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اب تبلیغ کی ضرورت نہیں رہی۔لیکن جب تک مسلمان اس اہم فریضہ کی طرف توجہ نہیں کرتے اس وقت تک وہ دوسروں پر غلبہ نہیں پاسکتے۔اور خصوصاً جو حالات آجکل ہمارے ملک میں پید اہو رہے ہیں یہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو جلد بیدار ہونا چاہئے اور اپنے مذہب کو ایسے مقام پر کھڑا کرنا چاہیئے کہ وہ تمام مذاہب کو اپنے حملوں سے خاموش کرا دے اور دنیا کے لوگ اس بات کے ماننے پر مجبور ہوں کہ اسلامی تعلیم ہی ایک ایسی تعلیم ہے جو دنیا کے دردوں کا علاج ہو سکتی ہے۔غرض ہماری جماعت کو گوسیاست سے کوئی واسطہ نہیں اور نہ ہی ہم سیاسیات میں الجھ کر اپنی توجہ مذہبی کاموں سے پھیرنا چاہتے ہیں لیکن بعض اوقات ہمیں حالات مجبور کر دیتے ہیں اور ہمارے لئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں رہتا کہ ہم سیاسیات میں حصہ لیں۔ایسی حالت میں ہم مجبوراً حصہ لیتے ہیں۔فرض کرو جیسا کہ ڈاکٹر مونجے کا خیال ہے کہ مسلمان ہندوستان سے نکل جائیں اور کسی وقت ہندو اکثریت یہ قانون بنائے کہ مسلمان ہندوستان سے چلے جائیں تو ایسی حالت میں احمدی بھی باقی مسلمانوں میں شامل سمجھے جائیں گے اور ان کو یہ اجازت نہیں ہو گی کہ وہ ہندوستان میں رہ جائیں۔اس قسم کے حالات میں ہمیں مجبور سیاسیات