خطبات محمود (جلد 27) — Page 374
1946ء 374 خطبات محمود ان حالات سے اگر کوئی سبق حاصل کرنا چاہے تو اس کے لئے عمدہ موقع ہے۔ آج مسلمان نہایت ادنی اور حقیر باتوں کو حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں ں ہیں اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر ہمیں یہ حاصل ہو جائیں تو ہمارے درد کا علاج ہو جائے گا اور جب انہیں ان امور کی طرف سے مایوسی ہوتی ہے تو ان کی جان نکلنے لگتی ہے۔ حالانکہ وہ باتیں حقیقت میں بہت چھوٹی ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ نقصاں جو ایک پیسہ کا دیکھیں تو مرتے ہیں 4 وہ چیزیں جو مسلمانوں کو حاصل کرنی چاہئیں وہ اتنی بڑی ہیں کہ یہ چیزیں جن کے حصول کی وہ کوشش کر رہے ہیں روپیہ کے مقابلہ میں ایک پیسہ کی بھی حیثیت نہیں رکھتیں۔ دنیا سے اللہ تعالیٰ کی عزت اور اللہ تعالیٰ کے نام کو مٹا دیا گیا۔ مسلمانوں کو اس کا فکر لاحق نہیں ہوا۔ دنیا سے رسول کریم صلی علیم کی عزت کو مٹادیا گیا اور آپ پر سخت سے سخت حملے کئے گئے۔ مسلمانوں کو فکر لاحق نہیں ہوا۔ دنیا نے قرآن کریم کی عزت کو مٹانے کی کوشش کی۔ مسلمانوں کو فکر لاحق نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ سے جاتا رہا۔ ان کو فکر لاحق نہیں ہوا۔ لوگوں نے نمازیں چھوڑ دیں، مساجد ویران ہو گئیں۔ ان کو کوئی فکر لاحق نہیں ہوا۔ قرآن کریم ہاتھ سے جاتا رہا، دنیا نے اس پر عمل کرنا ترک کر دیا اور عدالتوں میں جاکر علی الاعلان کہہ دیا کہ ہم قرآن کریم کے مطابق فیصلہ نہیں چاہتے بلکہ اپنے رسم و رواج کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں۔ اس سے زیادہ خطر ناک زمانہ مسلمانوں پر اور کونسا آسکتا ہے۔ لیکن مسلمان ٹس سے مس نہ ہوئے۔ لیکن جب بعض سیاسی حقوق کا سوال آیا تو مسلمان بپھرے کہ ہم ہر قسم کی قربانی کر کے دنیا کو بتا دیں گے کہ ہم زندہ قوم ہیں اور ہمارے جذبات سے کھیلنا آسان کام نہیں۔ لیکن میں کہتا ہوں اس وقت تم لوگ کہاں تھے جس وقت عیسائیوں نے تم سے قرآن کریم چھین لیا۔ شریعت اور اسلامی تعلیم سے تم کو نا واقف بنادیا۔ رسول کریم صلی علیم کی ذات پر عیسائیوں نے ناپاک حملے کئے اور تم میں سے لاکھوں کو عیسائی بنا کر گمراہ کر دیا۔ ان سب حالات میں تم کو غصہ نہ آیا۔ ہاں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیوں کے خلاف قلم اٹھایا اور ان کے اعتراضوں اور ناپاک حملوں کے جواب دینے شروع کئے تو تمہیں سن کر غصہ آگیا اور تم نے