خطبات محمود (جلد 27) — Page 361
خطبات محمود 361 *1946 جب وہ اپنی قوم کے پاس پہنچے تو انہوں نے آپ کی بہت قدر کی۔تو جب اللہ تعالیٰ نے تضرع اور گریہ وزاری کے نتیجہ میں غیر مشروط عذاب کو ٹال دیا تھا تو وہ ہم سے کیوں اس تغیر کے بعد شر کو نہیں روک سکتا۔اور ہمارا یہ زمانہ تو خیر والا ہے عذاب کا زمانہ نہیں۔اللہ تعالیٰ کی جماعتوں کے لئے عذاب نہیں ہو تا بلکہ ابتلا ہوتے ہیں۔جن میں ثابت قدمی دکھانے کے بعد ان کے لئے انعامات ہوتے ہیں۔لیکن اگر یہ صورت نہ بھی ہو تب بھی ہمارے سامنے نینوا کی مثال موجود ہے کہ باوجود بڑی زبر دست پیشگوئی کے اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ٹلا دیا۔پس ہم کو قربانیوں کے ذریعہ اس تغیر کو نیک بنادینا چاہئے۔بے شک ہر چکر کامیابی کا ایک نیا میدان پیش کرتا ہے اور بغیر چکروں کے ترقی نہیں ہو سکتی لیکن ہر چکر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کے مناسب حال قربانی کی جائے۔اور جو قومیں قربانی کرنے سے گریز کرتی ہیں وہ نئے چکر کے آنے پر گر جاتی ہیں اور تباہ و برباد ہو جاتی ہیں اور کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتیں۔پس ہماری جماعت کو زیادہ سے زیادہ قربانیاں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے اس تغیر کو نیک بنائے۔ایک سال گزر گیا ہے اور چار سال باقی ہیں۔پانچ میں سے ایک سال گزر جانے کا مطلب یہ ہے کہ کل کا بیس فیصدی گزر گیا ہے اور میں فیصدی کوئی معمولی چیز نہیں۔پس دوستوں کو غفلت کو ترک کرتے ہوئے ہوشیار ہو جانا چاہئے اور اپنی تنظیم کو ہر رنگ میں مکمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اگر تو یہ خیر کا دور ہے تو ہماری قربانیاں اسے زیادہ خیر کا دور بنا دیں گی اور اگر شر کا دور ہے تو وہ ہماری قربانیوں سے نیک بن جائے گا۔جن قوموں میں کثرت سے نشانات ظاہر ہوتے ہیں ان میں مساوات کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے اور ان کے دلوں سے نشانات کی قدر کم ہو جاتی ہے۔ہندوستان میں کئی چیزیں ایسی ہیں جو یہاں کثرت سے پیدا ہوتی ہیں۔مثلاً خربوزہ اور آم یہاں کثرت سے پیدا ہوتے ہیں۔راستے پر ٹوکروں کے ٹوکرے ان کے پڑے ہوئے ہوتے ہیں اور پاس سے گزرنے والا انہیں نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔لیکن یہی چیزیں انگلستان میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں اور وہ انہیں اس طرح سنبھال سنبھال کر رکھتے ہیں جس طرح ہیروں اور موتیوں کو سنبھال کر رکھا جاتا ہے۔