خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 328

*1946 328 خطبات محمود ہیں۔پھر جب وہ اگلے سے ملتا ہے تو وہ یہ تمام خبریں اگلے کو پہنچا دیتا ہے۔اور جب پولیس مجرموں کو پکڑنے کے لئے نکلتی ہے تو وہ مجرم ان حال دینے والوں کے ذریعہ سے پہلے ہی آگاہ ہو جاتا ہے اور پولیس کے ہاتھ میں نہیں آتا۔لیکن عربوں میں یہ حال دینے کا رواج نہیں تھا بلکہ وہ اپنی خبروں کو بڑی سختی کے ساتھ چھپاتے تھے۔لیکن اس کے باوجو د رسول کریم صلی للی یکم کو ان کی خبریں معلوم ہو جاتی تھیں۔اس کے برخلاف فتح مکہ کے موقع پر آپ اپنے ساتھ دس ہزار سپاہی لے کر نکلے اور عین مکہ کے قریب جا کر آپ نے ڈیرے ڈالے۔ابو سفیان مدینہ سے ہو کر واپس آرہا تھا۔اس نے رسول کریم صلی علیہ کم کو مدینہ میں چھوڑا تھا۔اکیلے آدمی کا سفر کرنا آسان ہوتا ہے بہ نسبت ایک فوج کے۔لیکن رسول کریم صلی ا ہم نے ایسی مارا مار کر کے چڑھائی کی کہ وہ سب لوگ حیران رہ گئے۔ابو سفیان نے دور سے آپ کی فوج کو دیکھا تو اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ یہ کس قبیلہ کے لوگ معلوم ہوتے ہیں؟ ساتھیوں نے مختلف قبائل کے نام لئے اور ہر ایک نام جو اُنہوں نے لیا اُس کو ابو سفیان نے رد کر دیا کہ ان کی اتنی تعداد نہیں اور ان کی اتنی بڑی فوج نہیں ہو سکتی۔پھر ان کے ساتھیوں نے کہا شاید محمد (رسول اللہ صلی ال ) اور ان کے ساتھی ہوں۔تو ابو سفیان نے کہا۔کیا تم پاگل ہو گئے ہو ؟ میں مدینے میں ان کو آرام سے چھوڑ الله سة رض کر آیا ہوں۔اتنی جلدی وہ کیسے یہاں پہنچ سکتے ہیں۔ابوسفیان یہ باتیں ہی کر رہا تھا کہ یکدم صحابہ نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو گھیر لیا۔حضرت عباس سے ابوسفیان کی دوستی تھی۔حضرت عباس نے کہا کہ تم میرے پیچھے گھوڑے پر سوار ہو جاؤ میں تمہیں رسول کریم صلی اللہ نام کی مجلس میں لے چلتا ہوں۔تم وہاں چل کر تو بہ کر لو تمہیں امان مل جائے گی۔حضرت عباس ابوسفیان کو گھوڑے پر بٹھا کر لے آئے اور رسول کریم صلی نیلم کی مجلس میں آکر اُن کو دھکا دے کر کہا کہ يَا رَسُولَ الله ! یہ تو بہ کرنے آئے ہیں۔حضرت عمرؓ اور بعض اور صحابہ ابو سفیان کے پیچھے بھاگے آرہے تھے۔حضرت عباس نے ابو سفیان سے کہا کہ توبہ کر لو نہیں تو مارے جاؤ گے۔لیکن چونکہ ابو سفیان اس ارادے سے نہ آئے تھے اس لئے جلدی میں تو بہ کا خیال ان کو نہ آیا۔حضرت عباس بار بار کہتے ابو سفیان ! تو بہ کرو اور وہ آنکھیں پھاڑے کبھی ادھر دیکھتے کبھی اُدھر دیکھتے۔حضرت عمرؓ اس انتظار میں تھے کہ رسول کریم صلی اللہ میم مجھے اشارہ کریں تو