خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 319

*1946 319 خطبات محمود میں حیران ہوا کہ جو بھی درخواست کرتا ہے اسی کے آٹھ نو بچے ہوتے ہیں۔میں یہ سمجھا کہ یہ لوگ مبالغہ سے کام لیتے ہیں لیکن جب میں نے تحقیقات کرائی تو بات درست نکلی۔اب یہ لوگ آٹھ آٹھ نو نو بچے پیدا کرنے اور اُن کے پالنے سے نہیں گھبراتے تو آپ ماں باپ کی خدمت سے کیوں گھبراتے ہیں۔ایک دو آدمی کا بوجھ اٹھانا میرے نزدیک کوئی مشکل نہیں۔بشر طیکہ انسان اس کا ارادہ رکھتا ہو۔اگر تم اپنی بیوی کے ماں باپ کی خدمت کرو گے اور ان ، حسن سلوک سے پیش آؤ گے تو تمہاری بیوی دل سے تمہاری وفادار ہو گی اور تم سے زیادہ محبت کرے گی اور پہلے سے زیادہ تمہاری فرمانبردار ہو گی۔لیکن اس بات کو ہمیشہ یاد رکھو کہ اگر اس کے والدین کو اپنے پاس رکھتے ہو تو انہیں نو کر سمجھ کر نہ رکھو۔بلکہ انہیں اپنا سر دار سمجھ کر رکھو۔اور ان سے ایسا سلوک نہ کرو جیسا کہ نوکروں سے کیا جاتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ اپنے یا اپنی بیوی کے ماں باپ کو اپنے پاس لے تو آتے ہیں لیکن ان سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کا کام کاج بھی کریں۔یہ طریق پسندیدہ نہیں۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ لڑکی کے والدین لڑکی کو یہ سمجھاتے ہیں کہ لڑکے کے والدین کو اس کے پاس نہ آنے دینا اور لڑکے کے ماں باپ لڑکے کو یہ سمجھاتے ہیں کہ دیکھنا ! لڑکی کے والدین کو قریب نہ آنے دینا۔ان کی ہدایت کے مطابق لڑکا اور لڑکی دونوں عمل کرنا شرع کرتے ہیں۔تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں لڑائی جھگڑا پید اہو جاتا ہے۔لڑکا کہتا ہے کہ یہ میرے والدین کو بُرا سمجھتی ہے اور لڑکی کہتی ہے کہ یہ میرے ماں باپ کی عزت نہیں کرتا۔تمام وہ والدین جو اپنے لڑکے لڑکیوں کو یہ ہدایت دیتے ہیں وہ اپنی اولاد کے خیر خواہ نہیں بلکہ وہ اپنی اولاد کے بدترین دشمن ہیں۔اور وہ میرے نزدیک شیطان کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ شیطان کا کام ہے کہ وہ افتراق اور انشقاق کو پسند کرتا ہے۔ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ بھی کسی دوسرے کے لڑکے یا لڑ کی سے عزت نہیں کرواسکتے۔جب ماں باپ ہی ایسی بیہودہ نصائح کریں تو تعلقات کیونکر اُستوار رہ سکتے ہیں۔اور لڑکے اور لڑکی کی عمر تباہ کرنے میں سب سے زیادہ حصہ ان کے والدین کا ہوتا ہے۔چونکہ والدین نے یہی کچھ سکھایا ہوتا ہے کہ والدین کو قریب نہیں آنے دینا چاہئے اس لئے شادی کے بعد ایک دفعہ میاں بیوی میں کشیدگی ضرور پید اہوتی ہے اور