خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 314

1946ء 314 خطبات محمود سه سة تو حضرت عمر رسول کریم صلی علیم کے پاس آپ کی شکایت کرنے گئے ہیں۔ حضرت ابو بکر کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ مجھے بھی اپنی براءت کے لئے جانا چاہئے تا کہ یکطرفہ بات نہ ہو جائے اور میں بھی اپنا نقطہ نگاہ پیش کر سکوں۔ جب حضرت ابو بکر رسول کریم صلی العلم کی مجلس میں پہنچے تو حضرت عمر عرض کر رہے تھے کہ يَا رَسُولَ الله ! مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں نے ابو بکر سے تکرار رار کی اور ان کا گرتہ مجھ سے پھٹ گیا۔ جب رسول کریم صلی العلیم نے یہ بات سنی تو غصہ کے آثار آپ کے چہرہ پر ظاہر ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا اے لوگو! تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ جب ساری دنیا میرا انکار کرتی تھی اور تم لوگ بھی میرے مخالف تھے اس وقت ابو بکر ہی تھا جو مجھ پر ایمان لایا اور ہر رنگ میں اس نے میری مدد کی۔ پھر افسردگی کے ساتھ فرمایا کیا اب بھی تم مجھے اور ابو بکر کو نہیں چھوڑتے ؟ آپ یہ فرمارہے تھے کہ حضرت ابو بکر داخل ہوئے۔ یہ ہوتا ہے سچے عشق کا نمونہ کہ بجائے یہ عذر کرنے کے کہ يَا رَسُولَ اللہ ! میرا قصور نہ تھا عمرؓ کا قصور تھا آپ نے جب دیکھا کہ رسول کریم صلی الم کے دل میں خفگی پیدا ہو رہی ہے، آپ سچے عاشق کی حیثیت سے یہ برداشت نہ کر سکے کہ میری وجہ سے رسول کریم صلی العلیم کو تکلیف ہو۔ آتے ہی رسول کریم صلی الم کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور عرض کیا یا رَسُولَ الله ! عمر کا قصور نہیں تھا میر اقصور تھا۔ 7 دیکھو حضرت ابو بکر کس قدر سچے عاشق تھے کہ آپ یہ برداشت نہ کر سکے کہ آپ کے معشوق کے دل کو تکلیف ہو۔ آپ یہ دیکھ کر کہ رسول کریم صلی الیمی حضرت عمرؓ پر ناراض ہوئے ہیں، خوش نہیں ہوئے۔ عام طور پر لوگوں میں یہ عادت ہوتی ہے کہ جب وہ اپنے مد مقابل کو جھاڑ پڑتی دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ خوب جھاڑ پڑی لیکن اس سچے عاشق نے یہ پسند نہ کیا کہ رسول کریم صلی علیم کے دل کو تکلیف ہو۔ خواہ کسی وجہ سے ہو۔ آپ نے کہا میں مجرم بن ، لیکن میں اپنے معشوق کا دل رنجیدہ نہیں ہونے دوں گا۔ اور نہایت لجاجت سے عرض کیا یا رَسُولَ الله ! عمر کا قصور نہیں میرا قصور ہے۔ اگر حضرت ابو بکر رسول کریم صلی ایام کے دل کے ملال کو دور کرنے کی خاطر مظلوم ہونے کے باوجود ظالم ہونے کا اقرار کرتے؟ ہونے کا اقرار کرتے ہیں تا آپ کے دل کو تکلیف نہ پہنچے۔ تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک مومن بندہ اپنے خدا کی خوشنودی کے لئے وہ کام نہ کرے جو اسے خدا تعالیٰ کی رضا کے قریب کر دے۔ بے شک رسول کریم صلی علیم ہمیں الله مجرم بن جاتا ہوں صا الله