خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 302

1946ء 302 خطبات محمود آگئے تھے اور تمہیں بعد کے حالات کا علم نہیں۔ بعد میں دشمن نے پھر حملہ کر دیا۔ مسلمان اس وقت غافل تھے نتیجہ یہ ہوا کہ تمام آدمی تتر بتر ہو گئے اور صرف چند آدمی رسول کریم لی علیہ گرد رہ گئے۔ مگر کفار کا حملہ اس قدر بڑھا کہ آپ کے ارد گرد جو صحابہ کھڑے تھے ہو گئے۔ مالک کے ا صد الله سلم وہ بھی یا تو زخمی ہو کر گر گئے یا شہید ہو گئے اور رسول کریم صلی العلیم بھی آخر شہید ہو گئے۔ کے ہاتھ میں اُس وقت آخری کھجور تھی اور وہ اسے اپنے منہ میں ڈالنے ہی والے تھے۔ جب انہوں نے یہ بات سنی تو کھجور اپنے ہاتھ سے پھینک دی اور کہا میرے اور جنت کے راستہ میں اس کھجور کے سوا کیا حائل ہے۔ پھر تعجب سے عمرؓ کو دیکھا اور کہا عمر! اگر یہ بھی ہو گیا ہے تو پھر بھی رونے کی کونسی بات ہے۔ عمرؓ ! ہمارا محبوب جس جگہ گیا ہے ہم کو بھی اس جگہ جانا چاہئے یا اس جگہ بیٹھ کر رونا چاہئے یہ کہہ کر تلوار اپنے ہاتھ میں لی اور دشمن پر حملہ کر دیا۔ اس جنگ میں کفار کی تعداد تین ہزار تھی اور تین ہزار کے لشکر پر اگر اکیلا شخص حملہ کرے تو اس کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ وہ پاگل تھا۔ یہ درست ہے اور وہ لوگ رسول کریم صلی علیم اور اسلام کی محبت میں واقع میں پاگل تھے۔ اگر آج ہمیں ایسے پاگل مل جائیں تو اسلام کی فتح میں ہمیں کوئی شک باقی نہ رہے اور ہمارے دلوں میں کبھی کوئی بے اطمینانی پیدا نہ ہو۔ مالک محمد رسول اللہ صلی العلیم کی محبت میں مجنون تھا اور اس نے وہی نمونہ دکھایا جو ایک پاگل دکھاتا ہے اور جو محبت کا پاگل بھی دکھایا کرتا ہے۔ اُنہوں نے تلوار لی اور دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ مگر اکیلے کی تین ہزار کے مقابلہ میں کیا طاقت ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے جب بعد میں حالات بدل دیئے اور رسول کریم صلی العلیم کو بھی افاقہ ہو گیا تو ایک پہاڑی کے دامن میں آپؐ نے اپنے آدمی جمع کئے اور فرمایا جاؤ اور تلاش کرو۔ اگر کوئی مسلمان زخمی ہوں تو ان کی خدمت کرو اور انہیں راحت اور آرام پہنچانے کی کوشش کرو۔ اور جو لوگ فوت ہو گئے ہیں اُن کو پہچانو اور اُن کی لاشیں جمع کرو تا کہ جنازہ پڑھا جائے۔ صحابہ رسول کریم صلی العلیم کی اس ہدایت کے مطابق مسلمان شہداء اور زخمیوں کی تلاش کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ اور انہیں مختلف جگہوں پر پڑی ہوئی کئی لاشیں ملیں۔ حضرت عمر کی روایت کے مطابق وہ یہ تو سن چکے تھے کہ جب مسلمانوں کی فوج تتر بتر ہو چکی تھی مالک اکیلے دشمن پر جا پڑے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ مالک ضرور مارے گئے ہوں گے مگر باوجود تلاش کے انہیں صد