خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 274

*1946 274 خطبات محمود یوں تو آجکل ہر ایک کے لئے تنگی اور قحط کے ایام ہیں لیکن جسے بہت زیادہ تنگی ہو اس کے لئے تھوڑی تنگی والے کو قربانی کرنی چاہئے۔میں نے بتایا تھا کہ سندھ کی گندم ادھر آنہیں سکتی۔یہی صورت ہو سکتی ہے کہ ہم پنجاب کی گندم سے فائدہ اٹھائیں۔مگر اس سال بارشوں کے نہ ہونے کی وجہ سے گندم کی فصل بالکل تباہ ہو گئی ہے خصوصاً وہ زمینیں جو بارانی تھیں ان کو سخت نقصان پہنچا ہے۔میری اپنی گندم بھی بہت کم ہوئی ہے۔چنانچہ اس سال صرف ایک سواستی من گندم مجھے ملی ہے۔اس کمی کی وجہ سے پہلے تو میرا ارادہ ہوا کہ میں بھی پہلے جتناہی غلہ دوں مگر پھر میرے دل نے مجھے ملامت کی کہ خدا تعالیٰ کی رحمت پر بد ظنی نہیں کرنی چاہئے۔اگر ایک لحاظ سے کمی واقع ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ کسی دوسرے لحاظ سے اس کمی کو پورا کر سکتا ہے۔چنانچہ باوجود اس کے کہ اس سال پچھلے سالوں کی نسبت میری گندم بہت کم ہوئی ہے جہاں پچھلے سالوں میں میں ایک سو من غلہ دیا کرتا تھا وہاں اس سال میں نے دوسو من غلہ غرباء کے لئے دیا ہے۔میں نے کہا بہر حال خدا تعالیٰ نے ہمیں ایسے سامان عطا فرمائے ہیں کہ اگر ہمارے پاس اپنا غلہ نہ ہو تو ہم روپیہ سے اپنے لئے غلہ خرید سکتے ہیں لیکن وہ جو اپنی ضروریات کے لئے غلہ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا یقیناً ہم سے زیادہ حق دار ہے۔اور اگر کبھی فاقے کا سوال آئے اور یہ دریافت کیا جائے کہ وہ جو دوسرے اوقات میں کھاتا رہا ہے وہ فاقہ کرے ؟ یا وہ جسے دوسرے اوقات میں کھانے کے لئے کم ملتا تھا وہ فاقہ کرے تو یقینا ہم یہی کہیں گے کہ جو شخص کھاتا رہا ہے وہ اب فاقہ کرے اور جو فاقہ کرتارہا ہے وہ اب کھائے۔جب تک اموال کی اس رنگ میں تقسیم نہیں ہو گی کبھی بھی دنیا میں انصاف قائم نہیں ہو گا اور کبھی بھی بنی نوع انسان میں محبت قائم نہیں ہو گی۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص ہمیشہ اچھا کھائے اور مصیبت کے وقت بھی کہے کہ چونکہ میں ہمیشہ اچھا کھانا کھاتا رہاہوں اس لئے اب بھی مجھے اچھا کھانا ملنا چاہئے۔ہم کہیں گے اب تمہارا فرض ہے کہ تم مصیبت برداشت کرو اور اپنے غریب بھائی کو کھانا کھلاؤ۔در حقیقت اگر غور کیا جائے تو ہماری جماعت میں اس قسم کے غرباء کا حصہ کم ہے جو محض جماعت پر بار ہوں اور خود کسی قسم کی قربانی میں حصہ نہ لیتے ہوں۔اس میں کوئی شبہ نہیں