خطبات محمود (جلد 27) — Page 270
*1946 270 خطبات محمود اور اس میں سے بھی ڈیڑھ لاکھ روپیہ صرف ہندوستان پر خرچ ہو رہا ہے۔کئی طالب علم ہیں جن کو وظائف دیئے جاتے ہیں، کئی مدرس ہیں جن کو گزارے دیئے جاتے ہیں اور پھر دفاتر کو چلانے کے لئے بھی ایک معقول رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر ہم باہر کے مشنوں کو ابھی اور زیادہ نہ بڑھائیں تب بھی تین لاکھ روپیہ وہ اور ڈیڑھ لاکھ روپیہ یہ۔ساڑھے چار لاکھ روپیہ سالانہ ہمیں ان اخراجات کے لئے چاہیئے۔مگر تحریک جدید کی ساری آمد اڑھائی لاکھ روپیہ کے قریب ہوتی ہے۔اسی لئے میں نے کہا تھا کہ اب جماعت کے دوستوں کو دفتر دوم کی طرف توجہ کرنی چاہئے تاکہ ہماری ان ضروریات کے پورا ہونے میں کوئی روک واقع نہ ہو۔میں نے کہا تھا کہ اگر ہماری جماعت کے وہ افراد جو دفتر اول میں حصہ نہیں لے سکے وہ دفتر دوم میں حصہ لینا شروع کر دیں اور متواتر انیس سال تک حصہ لیتے چلے جائیں اور دوسری طرف نئے شامل ہونے والے یہ کوشش کریں کہ ان کی تعداد بھی پانچ ہزار تک پہنچ جائے اور اڑھائی لاکھ سالانہ دفتر دوم کی آمد شروع ہو جائے تو اس طرح آٹھ سال میں پندرہ بیس لاکھ روپیہ ریز رو فنڈ کے طور پر جمع ہو سکتا ہے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے اس طرف پوری توجہ نہیں کی۔اب دوسر ا سال گزر رہا ہے مگر اس سال کے وعدے بھی ابھی اتنی ہزار سے کم ہیں۔جب ہماری جماعت کی یہ حالت ہے کہ وہ بار بار توجہ دلانے کے باوجود اپنے فرائض کا صحیح احساس نہیں کرتی تو اتنابڑا کام جو ہمارے سپر د ہے کس طرح کیا جاسکتا ہے۔یہ بات غلط ہے کہ ہماری جماعت کے پاس روپیہ نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہماری جماعت کی مالی حالت اب ایسی ہے کہ اگر قادیان میں ہی چندہ کی تشخیص اور اس کی وصولی کی صحیح طور پر کوشش کی جائے تو اب جو کچھ قادیان سے چندہ وصول ہو رہا ہے اس سے پچاس ساٹھ ہزار روپیہ سالانہ زیادہ آسکتا ہے۔اسی طرح بیر و نجات کے چندوں میں جو کمی ہے اگر اس کی اصلاح کی جائے تو ہماری آمد میں قریباً پانچ چھ لاکھ روپیہ کی زیادتی ہو سکتی ہے۔اور چونکہ اس وقت ہمارے روپیہ کا اکثر حصہ تبلیغ میں خرچ ہو رہا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنی تعداد میں بڑھتی چلی جائے گی۔اس لئے اگر پانچ سات سال تک یہ روپیہ برابر تبلیغ پر خرچ ہو تا رہا تو یہ ہماری آمد کو اتنا بڑھا دے گا کہ یہی پانچ چھ لاکھ پچیس چھبیس لاکھ بن کر