خطبات محمود (جلد 27) — Page 250
*1946 250 خطبات محمود اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں اور خواہ تقریروں میں وہ یہی کہتے کہ ہم انگریزوں کو ہندوستان سے نکال دیں گے، ہم ایک منٹ کے لئے بھی انگریزوں کی غلامی برداشت نہیں کریں گے مگر انگریز کی غلامی ان کی ذہنیت پر اس قدر غالب ہوتی کہ وہ ٹائی لے کر گھنٹوں شیشہ کے آگے کھڑے رہتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ٹائی یوں تو نہیں ہو گئی یاؤوں تو نہیں ہو گئی۔اب ٹائی کا یوں ہونا یاؤوں ہونا کس اثر کا نتیجہ تھا؟ یقیناً انگریز کی غلامی کے اثر کا نتیجہ تھا۔کیونکہ ہمارے باپ دادا نے تو کبھی ٹائی نہیں لگائی تھی۔پھر وہ ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے کوٹ کے کپڑے کا رنگ اور ہماری ٹائی کا رنگ آپس میں مخالف تو نہیں۔یہ قانون آخر کس کا تھا کہ کوٹ اور ٹائی کا رنگ آپس میں مخالف نہیں ہونا چاہئے؟ یقیناً انگریز کا تھا۔ورنہ ہمارے باپ دادا تو نہ سوٹ پہنا کرتے تھے اور نہ ٹائی وغیرہ لگایا کرتے۔پھر وہ ہمیشہ اس امر کو اپنے مد نظر رکھتے کہ ہمارے رومال اور ہمارے بُوٹ اور ہمارے بٹن اور ہمارے کالر ایٹی کیٹ (Etiquette) کے مطابق ہیں یا نہیں۔گاندھی جی نے اس حالت کو دیکھا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ میں ان لوگوں کو بالکل دوسری جانب لے جاؤں۔جس کی شکل موجودہ شکل سے بالکل مختلف ہے۔چنانچہ یا تو ایک ہندوستانی خالص انگریز یا خالص جرمن بن رہا تھا اور یا پھر انہوں نے اسے بڑھیا بنا کر چرخہ کاتنے کی طرف متوجہ کر دیا۔انہوں نے کہا میں لوگوں سے یہ کیا جھگڑا کرتا پھروں کہ تم اس بات کی کوئی پروا نہ کرو کہ تمہاری ٹائی کا رنگ سرخ ہے یا سفید۔یا تمہاری ٹائی ادھر جاتی ہے یا اُدھر۔یا تمہارے بُوٹ کو پالش کیا ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا مجھے اس بحث سے کوئی غرض نہیں۔آؤ میں ان کو ایک اُلٹ راستے پر لے چلوں تاکہ انگریز کی غلامی کا خیال بھی ان کے دلوں سے نکل جائے۔چنانچہ جس طرح ایک انگریز ٹائی کے پیچھے پڑا ہوا تھا انہوں نے ایک ہندوستانی کو ، ا سوت کاتنے پر لگا دیا اور اسے کہہ دیا کہ تم سارا دن بیٹھے چرخہ چلاؤ اور چوں چوں کی آواز نکالتے رہو۔انہوں نے سمجھا کہ جو شخص میری اس سکیم پر عمل کرے گا انگریزی فیشن کی پابندی کو وہ خود بخود ترک کر دے گا۔اور آپ ہی آپ سُوٹ اتار کر پھینک دے گا ورنہ یہ ایک عجیب مضحکہ انگیز صورت بن جائے گی کہ سوٹ پہنا ہوا ہے ، ٹائی لگائی ہوئی ہے اور زمین پر بیٹھے چرخہ چلا رہے ہیں۔پس گاندھی جی نے صرف سیاسی حقوق کے متعلق اپنی قوم کی آواز بلند نہیں کی