خطبات محمود (جلد 27) — Page 249
*1946 249 خطبات محمود مسلمان لیڈروں نے ان کی طرف توجہ نہیں کی۔ہندوؤں کا بھی پہلے یہی حال تھا مگر گاندھی جی نے اس میں تغیر پیدا کیا۔ورنہ پہلے کانگرس بھی صرف سیاسیات کا شور مچایا کرتی تھی۔گاندھی جی نے اس نقص کو دیکھا اور انہوں نے سمجھا کہ خالص سیاسی شور کوئی چیز نہیں اصل چیز قومی کیریکٹر ہے۔تم فوج چاہے کتنی بھرتی کر لو لیکن اگر سپاہیوں میں بہادری کی روح نہیں تو وہ فوج تمہارے کس کام آسکتی ہے۔ہمارے ملک میں ایک لطیفہ مشہور ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس حد تک درست ہے مگر کہتے ہیں مہاراجہ کشمیر نے ایک دفعہ کشمیریوں کی ایک فوج تیار کی۔لڑائی کا وقت آیا تو انگریزی حکومت نے مہاراجہ صاحب کشمیر کو لکھا کہ آپ بھی اپنی فوج لڑنے کے لئے بھیجوائیں۔مہاراجہ کشمیر نے فوج کے افسر کو بلایا اور اُسے کہا سرحد پر فوج کی ضرورت ہے تمہاری فوج کو جانے کا حکم دیا جاتا ہے۔افسر نے کہا میں سپاہیوں کو حکم سے اطلاع دیتا ہوں۔سپاہیوں کو اطلاع دے کر وہ پھر آیا اور مہاراجہ صاحب سے کہنے لگا۔ہم آپ کے نمک خوار ہیں اور ہم لڑنے کے لئے بالکل تیار ہیں۔آخر ہم تنخواہ کس بات کی لیتے رہے ہیں لیکن حضور ! رعایا کی صرف اس قدر عرض ہے کہ ہم نے سنا ہے کہ پٹھان بڑے سخت ہوتے ہیں۔اگر ہمارے ساتھ پہرہ کا انتظام ہو جائے تو ہم جانے کے لئے حاضر ہیں۔اب چاہے لطیفہ ہی ہو مگر لطائف بھی تو حقائق کے بیان کرنے کا موجب ہو جاتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بغیر اخلاق کے کوئی قوم کامیاب نہیں ہو سکتی۔بغیر جرآت کے کوئی فوج لڑ نہیں سکتی اور بغیر قومی کیریکٹر قائم کرنے کے کوئی قوم دوسری پر غالب نہیں آسکتی۔گاندھی جی نے اس نکتہ کو سمجھا اور انہوں نے صرف یہی نہیں کیا کہ دنیا میں سیاسیات کا شور مچانا شروع کر دیا بلکہ قومی کیریکٹر کو مضبوط کرنے کے لئے بھی انہوں نے کئی قسم کی تدابیر سے کام لیا۔مثلاً اسی چیز کو لے لو کہ انہوں نے اپنی قوم کو چرخہ کاتنے پر لگا دیا۔اب بظاہر یہ ایک لغو بات ہے اور ہے بھی لغو، مگر گاندھی جی نے جس غرض کے ماتحت اس طریق کو رائج کیا تھا وہ ایک نہایت ہی اعلیٰ غرض تھی اور اس کے لحاظ سے انہوں نے یہ لغو کام نہیں کیا بلکہ قوم کے کیریکٹر کو مضبوط بنانے کے لئے ایک شاندار کام کیا۔انہوں نے دیکھا کہ میں جن لوگوں کو انگریزوں کے ساتھ لڑنے کے لئے تیار کرنا چاہتا ہوں وہ رات اور دن انگریزوں کی غلامی میں