خطبات محمود (جلد 27) — Page 241
*1946 241 خطبات محمود مضبوط ہو تو وہ جان کی بھی پروا نہیں کرتا۔جس دن یہ روح جماعت میں پیدا ہو جائے گی اس دن جماعت تمام خطرات اور ہلاکتوں میں سے صحیح سالم بیچ کر نکل جائے گی۔لیکن جب تک یہ روح پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک خطرہ لاحق رہے گا۔پس میں ایک دفعہ پھر جماعت کو اس خطبہ کے ذریعہ ہوشیار کرنا چاہتا ہوں تا کمزور لوگ اپنی اصلاح کریں اور بچ جائیں۔منافقوں نے تو گرنا ہی ہے۔اللہ تعالیٰ یہ ابتلا اسی لئے لاتا ہے تاکہ کمزوروں اور منافقوں کا بھانڈا پھوڑ دے اور کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کر دے۔لیکن ہمارا کام یہ ہے کہ ہم ان کو بھی وعظ ونصیحت کرتے رہیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء جب وعظ و نصیحت کرتے ہیں تو کئی کمزور اور منافق لوگ اپنی کمزوری اور نفاق کو دور کر دیتے ہیں۔پس اب جبکہ ابتلاؤں اور امتحانوں کے دن قریب آرہے ہیں جماعت کو پوری توجہ سے احمدیت کی تعلیم پر کار بند ہونا چاہئے اور جماعتی نظام کا پوری طرح خیال رکھنا چاہئے۔شیطان چاہتا ہے کہ تمہارے احمدیت کے جامہ کو پھاڑ ے، تمہیں امتحان میں ناکام کر دے اور تمہیں ایمان سے محروم کر دے۔آج جو لوگ روپے پیسے سے منہ پھیرتے ہوئے احمدیت کے لئے قربانی کریں گے اللہ تعالیٰ ان کو بھوکا نہیں رکھے گا بلکہ دنیا کی تمام دولت ان کے ہاتھوں میں دے دے گا لیکن امتحان ضروری ہے۔اگر کچھ لوگوں کے دلوں میں کمزوری یا منافقت پائی جاتی ہے تو ان کی وجہ سے ہماری فتح رُک نہیں سکتی۔اللہ تعالیٰ اس بات کا آسمان پر فیصلہ کر چکا ہے کہ وہ ہم کو ضرور فتح دے گا اور جو لوگ بوجه کمزوری یا منافقت، احمدیت کو کمزور کرنا چاہیں گے اللہ تعالیٰ ان کو اسی طرح باہر نکال کر پھینک دے گا جس طرح کتے کی لاش شہر سے نکال کر باہر پھینک دی جاتی ہے۔ہمیں ان لوگوں سے ہمدردی ہے اس وقت تک جب تک ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا علاج ہو سکتا ہے اور یہ لوگ تقویٰ حاصل کر سکتے ہیں اور اپنے ایمان اور انجام کو درست کر سکتے ہیں۔لیکن اگر ہمیں علم ہو جائے کہ اُن کا مرض اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے شقاوت مقدر ہو چکی ہے تو پھر ہمیں ایسے لوگوں کی موت یا ہلاکت کا کوئی رنج نہیں ہو گا بلکہ ہم سمجھیں گے کہ یہ لوگ دوزخ کا ایندھن تھے سو دوزخ میں چلے گئے۔ہمیں ایسے لوگوں سے اسی وقت تک ہمدردی ہے جب تک ہم ان کے متعلق اصلاح کی امید رکھتے ہیں لیکن جب وہ خود