خطبات محمود (جلد 27) — Page 242
*1946 242 خطبات محمود ہی اپنے آپ پر ایمان کے دروازے بند کر لیں اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی شقاوت ظاہر کر دے تو پھر ہمارا ایسے لوگوں سے ہمدردی کرنا جرم ہو گا۔جیسے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ فسق و فجور کرنے والوں کو لوگوں کے سامنے کوڑے لگائے جائیں اور تمہارے دلوں میں ان کے لئے رحم پیدا نہ ہو۔1 اس وقت رحم کے پیدا ہونے کو اللہ تعالیٰ نے جرم قرار دیا ہے۔پس ان کمزور اور منافق لوگوں کی وجہ سے ہماری فتح رک نہیں سکتی۔البتہ وہ اپنا انجام ضرور خراب کر لیں گے۔احمدیت کو قائم ہوئے ستاون سال ہو چکے ہیں۔اس ستاون سال کے عرصہ میں دنیا نے احمدیت کو تباہ کرنے کی کوشش کی مگر اس کے مقابل پر اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت موجود ہے کہ مخالفین اپنے اس عمل میں ہمیشہ ناکام رہے اور یہ درخت زیادہ سے زیادہ پھیلتا چلا گیا۔اس ستاون سال کے تجربہ کے بعد ہم بڑے بے ایمان ہوں گے اگر ہمارے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہو کہ اگر مصائب اور ابتلا آئے تو جماعت کا کیا بنے گا۔ہمارے پیش نظر یہ سوال نہیں کہ جماعت کو فتح حاصل ہوگی یا نہیں؟ کیونکہ یہ تو یقینی بات ہے کہ احمدیت کو فتح ہو گی اور شکست کا تو خیال بھی ہمارے دلوں میں نہیں آسکتا۔ہمیں اگر خیال ہے تو اس بات کا کہ زیادہ سے زیادہ آدمی احمدیت قبول کریں، احمدیت کی تبلیغ روز بروز وسیع ہوتی جائے اور ہمارے وہ بھائی جو عملی طور پر کمزور ہیں اور حقیقی احمدی نہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ ٹھوکر سے بچائے کیونکہ اگر عملاً نہیں تو کم از کم دنیا کے سامنے تو وہ اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں۔جب وہ اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں تو ہمیں ان کو بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے ایمانوں کا امتحان اور جائزہ لیتے رہیں کہ آیا آنے والے خطرات میں ان کا نفس اپنے مقام پر قائم رہنے کی طاقت رکھتا ہے یا نہیں۔اگر کوئی شخص اپنے اندر کمزوری دیکھے تو اپنی اصلاح کرے اور خدا تعالیٰ سے دعا کرے کہ اے خدا! میرے گناہ اور خطائیں معاف فرما اور میری توبہ قبول فرما۔اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری کمزوریاں دور کر دے گا اور تمہیں حقیقی ایمان بخشے گا۔اور اگر تم دیکھتے ہو کہ تمہارا ایمان مضبوط ہے اور کبھی کمزور نہیں ہوا، روپے کے لالچ اور دنیوی تعلقات سے کبھی متزلزل نہیں ہوگا اور تم جماعتی اور قومی نظام کے پوری طرح پابند ہو تو تمہیں پھر بھی اپنے