خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 217

*1946 217 خطبات محمود ہوئے بھی اس کے واہمہ میں بھی یہ بات نہیں آسکتی کہ اس وقت رات ہے۔وہ یہی سمجھے گا کہ دن ہے کیونکہ ہزاروں ہزار کینڈل پاور کے ہزاروں ہزار لیمپ جل رہے ہوتے ہیں اور کسی انسان کے واہمہ میں بھی نہیں آسکتا کہ میں اس وقت رات میں سے گزر رہا ہوں۔جن لوگوں نے اپنے آرام اور اپنی آسائش اور اپنی عشرت کے لئے ایسے ایسے سامان مہیا کئے ہوئے ہیں، ان کو جگانے کے لئے دو آدمی کہاں کا فی ہو سکتے ہیں۔یقیناً جب یہ مبلغ وہاں جائیں گے تو ہم سے اور آدمی ما نگیں گے ، پھر اور آدمی ما نگیں گے، اور پھر اور آدمی مانگیں گے۔اس کے علاوہ اٹلی میں ہمارے دو مبلغ پہنچ چکے ہیں۔ہمارا پہلا مبلغ جو اٹلی میں مقیم تھا وہ بیمار پڑا ہے کیونکہ ٹکر لگ کر اس کی آنکھ پر چوٹ آئی تھی جس سے اس کی بینائی کو صدمہ پہنچا۔اب سنا ہے اس کی بینائی درست ہو گئی ہے اور وہ خطرے سے نکل گیا ہے لیکن ابھی کام نہیں کر سکتا۔ایک تار میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کسی نو مسلم نے ہالینڈ میں اس بات کا انتظام کیا ہے کہ شمس صاحب ہالینڈ جاکر کچھ دن رہ سکیں۔ہم نے تین مبلغ جرمنی کے لئے مقرر کر کے یہاں سے بھجوائے ہوئے ہیں مگر چونکہ جرمن مشن قائم کرنے میں ابھی کچھ دیر ہے اور ہالینڈ میں فوری طور پر ضرورت محسوس ہوئی ہے اس لئے میں نے ہدایت بھجوادی ہے کہ جرمنی کے مبلغوں میں سے دو مبلغ ہالینڈ چلے جائیں۔جرمنی کی فوجی طور پر ابھی اس طرح نگرانی کی جارہی ہے کہ غیر وں کو وہاں جانے کی اجازت ہی نہیں دی جاتی۔کہتے ہیں مختلف سوسائٹیوں کی طرف سے ہزاروں ہزار درخواستیں گورنمنٹ کے پاس آئی ہوئی ہیں مگر ابھی تک اس نے کسی درخواست پر غور نہیں کیا۔پس چونکہ ہمارے وہ مشنری جو جرمنی کے لئے تجویز کئے گئے تھے ابھی لندن میں ہیں اور وہ رستہ کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔اس لئے میں نے اس تار کے پہنچنے پر کہ ہالینڈ میں انتظام کیا جا چکا ہے انہیں تار بھجوا دیا ہے کہ جرمنی کے مشنریوں میں سے فی الحال دو کو ہالینڈ بھجوا دیا جائے۔کیونکہ ہالینڈ کے مشن کا انڈو نیشیا یعنی جاوا اور سماٹر اسے بھی گہرا تعلق ہے۔جاوا اور سماٹرا میں ہماری ہزاروں کی جماعت ہے اور چونکہ ہالینڈ کی تبلیغ کا سماٹرا اور جاوا پر اس طرح اثر ہو سکتا ہے جس طرح انگلستان کی تبلیغ کا ہندوستان پر اثر ہو سکتا ہے۔اس لئے میں نے ہدایت دے دی ہے کہ سر دست جرمنی کے مبلغ ہالینڈ چلے جائیں۔پھر جب نئے مبلغ مہیا ہو جائیں گے تو ان کو