خطبات محمود (جلد 27) — Page 210
*1946 210 خطبات محمود فرصت مل سکتی ہے۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ شکاگو کے مشنری کو اس محلہ سے باہر نکلنے کے لئے ہی کہاں وقت مل سکتا ہے۔جس میں وہ رہتا ہے۔شکاگو کی آبادی پچاس لاکھ سے اوپر ہے۔گویا جتنی آبادی صوبہ سرحد کی ہے اس سے کہیں زیادہ صرف ایک شہر شکاگو کی آبادی ہے اور جتنی آبادی سارے صوبہ سندھ کی ہے اس کے قریب قریب اس کی آبادی ہے۔صوبہ سندھ کی آبادی ساٹھ لاکھ ہے اور صوبہ سرحد کی آبادی چھتیں لاکھ۔گویا سندھ کی آبادی کے قریباً برابر اور صوبہ سرحد کی آبادی سے قریباً ڈیوڑھی امریکہ کے صرف ایک شہر شکاگو کی آبادی ہے۔پس وہ شہر ، شہر نہیں بلکہ در حقیقت ایک ملک ہے اور ایک ملک میں کبھی بھی ایک مبلغ کافی نہیں ہو سکتا۔کجا یہ کہ لوگ یہ کہیں کہ جب ہم نے صوبہ سرحد میں ایک مبلغ رکھا ہوا ہے تو کیا وہ عرب اور ایران اور افغانستان کی خبر نہیں رکھ سکتا۔جس طرح وہ بیوقوفی کا فقرہ ہو گا اسی طرح یہ بھی ایک احمقانہ خیال ہے کہ جب ہم نے شکاگو میں ایک مبلغ رکھا ہوا ہے تو کیا وہ سارے امریکہ کی خبر نہیں رکھ سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ کسی اور علاقہ کا تو ذکر ہی کیا ہے ہمارا ایک مبلغ صرف شکاگو کے دسویں حصہ کی بھی خبر نہیں رکھ سکتا۔ایک مبلغ اگر صحیح طور پر کام کرے اور محنت اور دیانتداری کے ساتھ اپنے وقت کا استعمال کرے تو وہ صرف تین چار لاکھ کی آبادی کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے لیکن جو پچاس ساٹھ لاکھ کی آبادی کا شہر ہو اس میں ایک مبلغ نہیں بلکہ چودہ پندرہ مبلغ ہونے چاہئیں۔تب اس میں ہلچل پیدا ہو سکتی ہے۔اور جب کسی ایک مبلغ کے ذریعہ ایک شہر میں بھی آواز نہیں پہنچ سکتی تو وہ علاقے جو پندرہ پندرہ سویا دو دو ہزار یا اڑھائی اڑھائی ہزار میل کے فاصلہ پر ہیں اُن تک ہماری آواز کہاں پہنچ سکتی ہے اور ان کو یہ پتہ بھی کس طرح لگ سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں اسلام کا کوئی مبلغ رہتا ہے۔ہماری تبلیغ کی مثال تو وہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی مچھر ایک بیل کے سینگ پر بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر کے بعد وہ بیل سے کہنے لگا۔بھائی بیل! میں بھی حیوان ہوں اور تم بھی حیوان۔ہماری اور تمہاری آپس میں برادری ہے۔یہ آدمی ہم پر بھی ظلم کرتے ہیں اور تم پر بھی۔ہمیں بھی مارتے ہیں اور تمہیں بھی۔اس لئے ہمارا اور تمہارا تو جوڑ ہے لیکن ان کا اور ہمارا کوئی جوڑ نہیں۔میں اس وقت تھک کر تمہارے سینگ پر بیٹھ گیا تھا۔اگر تمہیں بوجھ معلوم ہو