خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 10

*1946 10 خطبات محمود اس نکھد 3 ڈویژن کے پاس شدہ لڑکوں کے فیل ہونے پر پروفیسروں پر کیا الزام آسکتا ہے۔میں نے جماعت کے دوستوں کو بار بار توجہ دلائی ہے کہ والدین کو بچپن میں بچوں کی پوری نگرانی کرنی چاہئے۔جو والدین بچوں کی نگرانی نہیں کرتے اور ان کی تعلیم کی فکر نہیں کرتے وہ قتل اولاد نہیں کرتے تو اور کیا کرتے ہیں۔یہ قتل اولاد نہیں تو اور کیا ہے کہ انسان بچوں کی محبت کی وجہ سے ان کو تعلیم سے غافل رکھے۔صرف کامیابی ہی مقصود نہیں ہوتی، جنت میں جانے والا انسان ادنی درجہ میں جائے تو اس پر اسے خوش ہونا نہیں چاہئے۔جو بچوں کی روحانی تربیت مکمل نہیں کرتے ان کی اولاد جنت میں گئی تو ادنی درجہ کی جنت میں جائے گی۔اور جو تعلیم میں غفلت کرتے ہیں ان کی اولاد کے لئے دنیاوی جنت میں سوائے چپڑاسیوں کی جنت کے اور کوئی جگہ نہیں ہے۔پس ایسے لوگوں کے لئے نہ دنیا میں عزت ہے اور نہ آخرت میں۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول نے درس کے دوران میں بیان فرمایا کہ دوزخ عارضی چیز ہے اور کچھ مدت کے بعد دوزخیوں کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور انہیں اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کر دے گا۔(جیسا کہ جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے) ایک امیر آدمی بھی اس درس میں شامل تھا کہنے لگا مولوی صاحب ! جَزَاكَ الله۔پہلے اس بات کا علم نہ تھا اور ڈر رہتا تھا کہ ہمیشہ کی دوزخ میں پڑیں گے۔اب یہ بات سن کر سر سے بوجھ اتر گیا ہے کہ آخر تو سب جنت میں اکٹھے ہو جائیں گے۔اس پر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ میں تمہیں پچیس روپے دیتا ہوں تم باہر نکل کر پانچ جو تیاں کھالو۔اس پر وہ بہت سٹ پٹایا اور کہنے لگا مولوی صاحب ! شرم کی بات ہے، آپ نے غصہ ہو کر ان طالب علموں میں میری بے عزتی کر دی۔آپ نے فرمایا کہ اگر تمہیں ان طالب علموں کے سامنے اتنی بات پر اعتراض ہے تو جہاں تمہارے باپ دادے، پڑ دادے سب جمع ہوں گے اور دوزخ میں تمہیں سب کے سامنے پچاس ہزار سال تک جو تیاں پڑیں گی کہ تم دوزخ کے عارضی ہونے پر خوش ہو گئے ہو وہاں تمہیں شرم نہ آئے گی ؟ لیکن ہمارے لوگ کہتے ہیں شکر ہے لڑکا پاس تو ہو گیا ہے۔ان کو یہ علم نہیں کہ جوں جوں تعلیم آگے چلتی ہے مشکل ہوتی چلی جاتی ہے۔سکولوں کا نتیجہ عام طور پر ستر یا پچھتر فیصدی ہوتا ہے لیکن کالج میں جاکر وہی نتیجہ پینتالیس فیصدی ہو جاتا ہے حالانکہ کالج میں پڑھنے والے تو وہی طلباء