خطبات محمود (جلد 27) — Page 177
1946ء 177 خطبات محمود گزارہ رہا۔ یہ درست ہے کہ ہندوؤں کے پاس روپیہ حاصل کرنے کے اور بھی ذرائع ہوتے ہیں۔ چونکہ ہند و مالدار قوم ہے اس لئے اگر کسی کے پاس تھوڑا سا روپیہ بھی ہو تو قومی احساس رکھنے والے بینکروں کو وہ روپیہ دے کر ہزاروں روپے کی جائیدادیں پیدا کر لیتے ہیں۔ مسلمان ایسا نہیں کر سکتے۔ لیکن بہر حال ہندوؤں میں سے ایک شخص نے یہ مثال پیش کر دی کہ وہ اپنے دوسرے بھائی کو جس نے قوم کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا تھا ساری عمر اپنی آدھی تنخواہ دیتا رہا۔ یہ وہ نمونہ ہے جو سب سے پہلے رسول کریم صلی علیم کے صحابہ نے مدینہ میں پیش کیا رض جبکہ سارے شہر کے انصار نے اپنے مہاجر بھائیوں کے لئے آدھی آدھی جائیدادیں پیش کر دی تھیں۔ اگر رسول کریم صلی علی ایم کے صحابہ یہ نمونہ دکھا سکتے ہیں تو کیا وہی مثال رسول کریم صلی علی ام کے صحابہ کا مثیل کہلانے والے احمدی اپنے نمونہ سے پیش نہیں کر سکتے ؟ اور کیا آج ہر بھائی اپنے دوسرے بھائی کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ بھائی ! اگر تجھے دین کی خدمت کا شوق ہے تو بے شک خوشی سے جا اور یہ کام کر ، میں ہمیشہ اپنی تنخواہ کا آدھا حصہ تجھے دیتار ہوں گا تا کہ قوم پر تو بوجھ نہ بنے اور اپنا کام عمدگی کے ساتھ کرتا رہے؟ میں سمجھتا ہوں ایک طرف ماں باپ کے دلوں میں یہ تحریک پیدا ہونی چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو اسلام کی خدمت کے لئے اِدھر بھیجیں اور دوسری طرف خود بچوں کے دلوں میں یہ تحریک پیدا ہونی چاہئے کہ وہ اسلام کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں اور اپنے ماں باپ کو مجبور کریں کہ وہ انہیں اس طرف بھیجیں۔ یہ ایمان کا معاملہ ہے اور ایمان میں چھوٹے اور بڑے کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا۔ رسول کریم صلی العلیم نے جب دعوی نبوت فرمایا اور آپؐ نے تبلیغ شروع کی تو لوگوں نے ہچکچانا اور بھا گنا اور اعراض کرنا شروع کر دیا۔ آپ نے سوچ بچار اور غور و فکر کے بعد ایک دن لوگوں کی دعوت کی اور ارادہ فرمایا کہ جب یہ لوگ کھانا کھا چکیں گے تو میں انہیں اسلام کی تبلیغ کروں گا۔ چنانچہ وہ لوگ آئے اور انہوں نے کھانا کھایا مگر جب کھانے سے فارغ ہونے کے بعد آپ تقریر کرنے لگے تو لوگ اٹھ کر چلے گئے۔ رسول کریم صلی علیم کو بہت ہی افسوس ہوا کہ لوگوں کو سمجھانے کے لئے جو تدبیر اختیار کی گئی تھی وہ کار گر ثابت نہ ہوئی۔ حضرت علیؓ کی عمر