خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 176

*1946 176 خطبات محمود کمائی کا آدھا حصہ اپنے اس بھائی کو دے دیا کرے جس نے اسلام کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا ہو۔وہاں تو صرف ایک ہی رشتہ تھا یعنی انصار اور مہاجرین کے درمیان صرف روحانی رشتہ تھا جسمانی نہیں۔پھر جہاں جسمانی اور روحانی دونوں رشتے ہوں وہاں ایک دوسرے کے لئے کس قدر قربانی کرنی چاہئے۔میں تو سمجھتا ہوں اگر کسی باپ کے دو بیٹے ہوں تو ان دونوں کا فرض ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اپنے باپ سے کہیں کہ اے ہمارے باپ! آپ ہم میں سے جس کو چاہیں دین کی طرف بھیج دیں اور جس کو چاہیں دنیا کمانے پر لگالیں۔ہم میں سے جو شخص دنیا کمائے گا وہ اپنی کمائی کا آدھا حصہ ہمیشہ اس بھائی کو دے دیا کرے گا جس نے دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا ہو گا تا کہ اگر وہ کسی اور طرح دین کی خدمت نہیں کر سکتا تو اسی رنگ میں حصہ لے کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرے۔اگر قربانی اور ایثار سے کام لیا جائے تو میں سمجھتا ہوں اس قسم کا عزم کر لینا کوئی مشکل بات نہیں۔اور اس کی مثالیں ہمیں اور قوموں میں بھی مل سکتی ہیں۔چنانچہ ہندوؤں میں اس کی ایک موٹی مثال موجود ہے۔لالہ ہنسراج صاحب پر نسپل ڈی۔اے۔وی۔کالج لاہور جن کا ہندوؤں کی تعلیم میں سب سے زیادہ حصہ ہے وہ غریب ماں باپ کے بیٹے تھے۔ایسے غریب ماں باپ کے کہ ان کا تعلیم پانا بھی مشکل تھا۔ان کا ایک بھائی ڈاکخانہ میں ملازم تھا اور وہی ان کو تعلیمی اخراجات دیتا تھا۔چنانچہ اسی کی مدد سے انہوں نے کالج کی تعلیم حاصل کی۔اسی دوران میں پنڈت دیا نند صاحب کی یاد گار میں ڈی۔اے۔وی کالج قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور انہوں نے اپنے آپ کو قوم کی خدمت کے لئے وقف کر دیا۔چونکہ انہوں نے قومی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا تھا ان کے بھائی نے کہا کہ میں ہمیشہ ان کو اپنی آدھی تنخواہ دیتارہوں گا تا کہ یہ قوم پر بوجھ نہ بنیں۔چنانچہ لالہ ہنسراج صاحب ساری عمر ڈی۔اے۔وی کالج کے پرنسپل رہے اور انہوں نے اسے ادنیٰ حالت سے بہت بڑی ترقی تک پہنچا دیا۔مگر قوم سے وہ کوئی روپیہ نہیں لیتے تھے۔ہمیشہ ان کا بھائی اپنی تنخواہ میں سے نصف روپیہ ان کو بھجوادیا کرتا تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعد میں اس کی تنخواہ زیادہ ہو گئی تھی مگر بہر حال ایک ڈاکخانہ کے ملازم کی تنخواہ چار پانچ سو سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔اس تنخواہ کا آدھا حصہ وہ برابر ان کو دیتا رہا اور اسی پر ان کا