خطبات محمود (جلد 27) — Page 171
*1946 171 خطبات محمود ہو سکتا ہے کہ انسان کی ٹانگیں چہ جائیں لیکن جس شخص کے کان میں ہمیشہ دو قسم کی آوازیں آتی رہیں گی وہ یقینا پاگل ہو جائے گا اور کسی شخص کا مر جانا اس سے ہزار درجہ بہتر ہو تا ہے کہ وہ پاگل ہو کر زندہ رہے۔پس جب تک ہم اپنے ماحول کو درست نہیں کر لیتے اس وقت تک ہماری اولا دیں شیطانی حملوں سے کبھی محفوظ نہیں رہ سکتیں۔ہم خود انہیں دھکے دے کر شیطان کی گود میں ڈالنے والے ہوں گے۔پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری جماعت میں اس کا احساس پیدا ہو اور جن لوگوں کو خدا تعالیٰ توفیق عطا فرمائے وہ اپنی اولادوں کو دین کی خدمت کے لئے وقف کریں۔اس وقت تک امراء اس تحریک میں حصہ لینے سے بہت حد تک محروم چلے آ رہے ہیں اور انہوں نے بہت ہی کم بچے دین کی خدمت کے لئے وقف کئے ہیں۔اگر ہم شمار کریں تو غرباء تو در جنوں کی مقدار میں ایسے نکل آئیں گے جنہوں نے اپنے بچوں کو خدمت دین کے لئے اس رنگ میں وقف کیا۔لیکن اگر امراء کو گننے لگیں تو وہ دو چار سے زیادہ نہیں نکل سکیں گے۔یہ ایک ایسا نمونہ ہے جسے دشمن کے سامنے پیش کر کے ہم اس پر اپنی فوقیت یا اپنی قربانیوں کی عظمت ثابت نہیں کر سکتے۔غرباء کا نمونہ اگر ہم پیش بھی کریں تو وہ کہہ دے گا کہ یہ بھوکے مرتے تھے، ان کے پاس اپنی تعلیم کا اور کوئی ذریعہ نہیں تھا۔جماعت نے وظائف مقرر کر دیئے اور وہ پڑھتے چلے گئے۔اس میں انہوں نے قربانی کو نسی کی ہے۔اس وقت ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم غلط کہتے ہو۔انہوں نے جو کچھ کیا ہے اخلاص او رایمان کے ماتحت کیا ہے کیونکہ اخلاص اور ایمان ایک ایسی چیز ہے جو ہم کسی کو دکھا نہیں سکتے۔اگر وہ سارے کے سارے اخلاص سے کام لینے والے ہوں، سارے کے سارے ایمان کا اعلیٰ مقام رکھتے ہوں تب بھی دشمن کے مقابلہ میں کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بے شک ہم نے ان کے لئے اپنا روپیہ خرچ کیا ہے لیکن اگر ہم روپیہ خرچ نہ کرتے تب بھی ان لوگوں میں ایسا اخلاص تھا کہ وہ ضرور قربانی کرتے اور اپنے بچوں کو بہر حال اس مدرسہ میں داخل کرتے ؟ یہ ایک دل کی بات ہو گی جسے ہم ثابت نہیں کر سکیں گے اور ہمیں اپنے دشمن کے مقابلہ میں ضرور خاموش ہو نا پڑے گا۔اور یا پھر یہ ماننا پڑے گا کہ احمدیت نے غریبوں میں تو اخلاص پیدا کیا ہے لیکن امیروں میں پیدا نہیں کیا۔