خطبات محمود (جلد 27) — Page 154
*1946 154 خطبات محمود فلسطین، اٹلی، یونان، برما، ملایا، جاوا، جاپان۔غرض کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں ہمارے فوجی کنگز کمیشن آفیسر موجود نہیں۔کسی جگہ کر نیل ہیں، کسی جگہ میجر اور کسی جگہ کیپٹن اور لیفٹینٹ اور قدرتی طور پر ان لوگوں کے دلوں میں جن کو یہ عہدے ملے ہیں خواہش پیدا ہوتی ہو گی کہ وہ اپنی اولادوں کو اعلیٰ تعلیم دلائیں۔چنانچہ ایسی تعلیمی دوڑ کی وجہ سے اب کالجوں میں پہلے سے دُگنے طالب علم داخل ہوں گے اور یہ لازمی بات ہے کہ کالج میں داخل ہونے والے طلباء اپنے ارد گرد کے حالات سے ضرور متاثر ہوتے ہیں۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کو ارد گرد کے بد اثرات سے محفوظ کر کے احمدیت کے ماحول میں تربیت دیتے ہوئے ان کے دلوں میں احمدیت کو راسخ کرتے ہوئے ترقی کی طرف لے جائیں تا احمدیت کو زیادہ سے زیادہ مضبوطی حاصل ہو۔افسوس ہے کہ مسلمانوں نے عیسائیت کو دیکھتے ہوئے بھی اس کے اچھے طریق کو اختیار نہ کیا۔عیسائیت نے جتنی تعلیم دی ہے پادریوں کے ذریعہ دی ہے۔یورپ میں جتنے بھی کالج ہیں پادریوں کے قائم کئے ہوئے ہیں اور وہ سو فیصدی پادریوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔اس وجہ سے باوجود ہر قسم کی اعلیٰ تعلیم پا جانے کے نوجوانوں کے دلوں میں عیسائیت کی محبت مٹتی نہیں۔بعض لوگ دہر یہ بھی ہو جاتے ہیں تو حضرت عیسی علیہ السلام کی محبت اور دین عیسوی کی برتری کا احساس ان کے دلوں میں قائم رہتا ہے۔وہ یہ تو کہتے ہیں کہ دین عیسوی میں کچھ نقائص ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ دنیا میں جتنے مذاہب ہیں ان سب سے بہتر عیسوی مذہب ہے مگر مسلمانوں میں یہ نہیں ہوا۔اس لئے کہ مسلمانوں نے جہاں تعلیم کا انتظام کیا وہاں صرف مذہبی تعلیم کا انتظام کیا حلانکہ طب بھی تو تعلیم تھی۔یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ سو فیصدی مسلمان مولوی بن جاتے۔اگر سارے مولوی بن جائیں گے تو روزی کمانے والا کون ہو گا۔اور ان مولویوں یا مدرسین کو خرچ دینے والا کون ہو گا۔قومی ترقی کا یہی ذریعہ تھا کہ کچھ لوگ قانون کے ماہر ہوتے ، کچھ انجینئر ہوتے، کچھ طبیب اور ڈاکٹر ہوتے اور کچھ اور علوم میں مہارت حاصل کرتے۔مگر مسلمانوں نے بحث مباحثہ کے خیال سے منطق اور فلسفہ تو اپنی تعلیم میں شامل کر لیا مگر باقی ساری تعلیموں کو خارج کر دیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلا۔دلانے کے لئے بجائے اپنے تعلیمی اداروں میں بھیجنے کے دوسرے اداروں میں بھیجنا پڑا