خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 108

*1946 108 خطبات محمود بیداری اور ہوشیاری پید اہو جاتی ہے۔پس اس حَبْلُ اللہ سے مراد یہ ہے کہ ہم جہاں بھی ہوں اپنے نظام سے پختہ تعلق رکھیں اور اس کی ہدایات پر عمل پیرا ہوں۔ورنہ اللہ تعالیٰ کے رسے کو پکڑنے کے یہ معنی ہر گز نہیں کہ سارے کے سارے مسلمان گھر بار چھوڑ کر ایک مرکز میں آبیٹھیں الله سة الله سة اور خلیفہ وقت کے ساتھ ہی نمازیں پڑھیں۔یہ بات نا ممکن ہے۔سب سے بڑی مثال اس اعتصام کی رسول کریم صلی ال نیلم کے زمانے کی ہے مگر رسول کریم صلی ا ظلم کے زمانہ میں دس پندرہ ہزار مسلمان مدینہ میں رہتے تھے۔حالانکہ اس وقت مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ سے اوپر گزر چکی تھی۔تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اکثر صحابی ایسے تھے جو مختلف علاقوں سے آئے۔رسول کریم صلی الله یم کی شکل مبارک دیکھی، آپ کے منہ سے باتیں سنیں اور چند دن رہ کر اپنے وطن کو واپس چلے گئے۔اور ایسے اشخاص بہت کم تھے جو رسول کریم صلی الی یوم کی مجلس سے اٹھنے کا نام نہ لیتے ہوں اور رات دن آپ کی مجلس میں حاضر رہتے ہوں۔مدینے کے تمام لوگ ایسے نہ تھے کہ وہ تمام نمازیں آپ کے ساتھ ادا کرتے ہوں بلکہ لوگوں کی کثرت کی وجہ سے بعض اور مساجد بھی تعمیر کی گئی تھیں جن میں لوگ نمازیں ادا کرتے تھے۔سب سے بڑی فوج جو رسول کریم صلی للی نیم نے فتح مکہ کے موقع پر تیار کی وہ دس ہزار تھی۔اسی طرح غزوہ تبوک کے موقع پر بھی فوج کی تعداد دس ہزار تھی۔اس لحاظ سے سمجھا جا سکتا ہے کہ مدینہ کی آبادی چالیس پچاس ہزار کے در میان ہو گی۔لیکن یہ تمام فوج مدینہ کی ہی نہ تھی بلکہ آپ نے ارد گرد کے علاقوں سے بھی فوج کے لئے آدمی جمع کئے تھے۔بہر حال تمام مسلمان مدینہ میں ہی جمع نہیں ہو گئے تھے بلکہ اپنے اپنے وطنوں میں تبلیغ اسلام کرتے تھے۔پس اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم ایسا نہیں کہ جب کوئی مامور یا خلیفہ آئے تو اس کے ماننے والے سب کے سب اپنے وطنوں کو چھوڑ کر وہاں جمع ہو جائیں اور دن رات اس کی مجلس میں بیٹھے رہیں اور اس کی باتیں سنتے رہیں۔بلکہ ہمیشہ لوگ اپنی اپنی جگہوں پر رہتے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگ آتے ہیں اور مرکز سے دین کی باتیں سیکھ کر واپس جاتے ہیں اور اس آواز کو بلند کرتے ہیں جو مرکز سے اٹھائی گئی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَتَكُنْ مِنْكُمُ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ 2 کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو الہی دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کرے اور مرکز سے دین سیکھ کر آئے اور واپس آکر اپنے لوگوں کو