خطبات محمود (جلد 27) — Page 98
*1946 98 خطبات محمود مشورہ کر چکا تھا اور اکثر دوستوں نے یہی بتایا تھا کہ اگر ہماری جماعت ان کو ووٹ دے تو ان کی کامیابی کا زیادہ امکان ہے اس لئے میں نے صاحبزادہ صاحب سے کہا کہ اگر آپ جماعتی معاہدہ کے لئے تیار ہوں تو ہماری جماعت آپ کو ووٹ دے دے گی۔بشر طیکہ ملک خضر حیات خاں صاحب آپ کی سفارش کر دیں کیونکہ ہمارا وعدہ اصل میں ان سے ہے۔صاحبزادہ صاحب نے کہا کہ میں جماعتی معاہدہ لکھ کر دینے کو تیار ہوں اور ملک صاحب کی تحریر آپ کو جا کر بھجوا دوں گا۔میرے معاہدہ کے متعلق یہ شرط ہو گی کہ الیکشن کے آخر تک اسے ظاہر نہ کریں۔میں نے انہیں بتایا کہ ہمارا یہ طریق نہیں کہ ہم معاہدات کو یو نہی ظاہر کریں۔ہمارے ساتھ چالیس پچاس آدمیوں کے معاہدے ہوئے ہیں لیکن ہم نے کسی ایک کے معاہدہ کو بھی شائع نہیں کیا۔پھر صاحبزادہ صاحب نے کہا۔میں نے سنا ہے کہ نارووال کی تحصیل سے نواب صاحب کھڑے ہوئے ہیں اور نارووال کی تحصیل کے راجپوتوں میں میرے بہت سے مرید ہیں۔میں ان سے کہوں گا کہ وہ نواب صاحب کے حق میں ووٹ دیں۔میں نے ان سے کہا کہ ہم کسی لالچ کی وجہ سے آپ کو ووٹ نہیں دے رہے اور نہ ہم سودا کرنا چاہتے ہیں بلکہ ہمارا ملک صاحب سے وعدہ تھا کہ جو آدمی بھی آپ کا کھڑا ہو گا ہم اس کو ووٹ دیں گے ہم اپنا وعدہ پورا کریں گے۔آپ کے مریدوں کے ووٹ حاصل کرنا ہمارے مد نظر نہیں۔وہ بے شک ہمارے خلاف ووٹ دیں۔(چنانچہ اکثر ووٹ راجپوتوں کے ہمارے خلاف ہی گئے ہیں) پھر صاحبزادہ صاحب نے کہا کہ اگر آپ احرار کی شدید مخالفت کے باوجود میرے حق میں فیصلہ کریں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ جماعت احرار بھی آپ سے تعاون کے لئے ہاتھ نہ بڑھائے۔میں نے کہا اس بات کا بھی سوال نہیں۔آپ کی جماعت تعاون کا ہاتھ بڑھائے یا نہ بڑھائے ہم نے تو ملک صاحب سے وعدہ کیا ہوا ہے۔وہ جس کے حق میں فیصلہ کر دیں گے ہم اسے ووٹ دیں گے خواہ اس کے تعلقات ہمارے ساتھ اچھے ہوں یا بُرے۔پھر صاحبزادہ صاحب نے کہا کہ میں جاتا ہوں اور ملک صاحب سے فیصلہ کر کے آپ کو اطلاع دوں گا۔اس جگہ عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب کی شہادت بھی درج کرتا ہوں جن سے صاحبزادہ فیض الحسن صاحب میری ملاقات سے پہلے ملے تھے۔مرزا بشیر احمد صاحب تحریر