خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 90

*1946 90 خطبات محمود دے کر یہ ظاہر کیا کہ گویاوہ جماعتی نظام کی اتباع کی وجہ سے اس پارٹی کے امید وار کے حق میں رائے دے رہے ہیں۔حالانکہ خود ان کے ذاتی تعلقات ان سے تھے جن کی وجہ سے وہ ان کی تائید کر رہے تھے اور یہ ممکن تھا بلکہ غالب امر تھا کہ اگر ان کی مرضی کے خلاف فیصلہ کیا جاتا تو ان کو ٹھوکر لگتی۔گو ایسے آدمیوں کی تعداد بہت کم ہے لیکن پھر بھی ایک مخلص جماعت میں ایسے آدمیوں کا پایا جانا بہت تکلیف دہ بات ہے۔اور بعض ایسے آدمیوں کے متعلق جو کہ ذمہ دار آدمی ہیں اور اچھی شہرت رکھنے والے ہیں یہ یقین کرنے کی کافی وجوہ ہیں کہ انہوں نے اپنے ذاتی اغراض کو جماعتی فائدہ پر مقدم کیا اور اسے شکل یہ دی کہ گویاوہ جماعتی اتباع اور اخلاص کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں۔دوسرا نقص یہ دیکھا گیا کہ باوجود مرکز کا حکم پہنچ جانے کے بعض جماعتوں نے اس میں اختلاف کیا۔جماعتوں نے کثرتِ رائے سے مشورہ کر کے جو فیصلہ ہمیں بتایا اس کے مطابق ہم نے فیصلہ کر دیا لیکن جب فیصلہ ہو گیا تو انہوں نے آپس میں لڑنا شروع کر دیا۔مثلاً تحصیل گوجر انوالہ کے احمدیوں کی دو پارٹیاں بن گئیں۔ایک پارٹی مسلم لیگ کی تائید میں تھی اور دوسری پارٹی یو نینسٹ کو ووٹ دینا چاہتی تھی۔دو دفعہ میں نے آدمی بھیجا مگر یہ لوگ صلح سے فیصلہ نہ کر سکے۔قومی کاموں میں جدھر اکثریت ہو اقلیت کو اپنی رائے ان کی رائے کے ماتحت کر دینی چاہئے سوائے دین کے معاملہ کے۔اگر دین کے معاملہ میں اکثریت دین کے خلاف کوئی فیصلہ کرے مثلاً یہ کہے کہ خدا تعالیٰ کو ایک نہ مانو تو اس معاملہ میں اکثریت کی رائے کی پروا نہیں کی جائے گی۔لیکن دنیوی معاملات میں اکثریت کی رائے کا خیال رکھا جانا ضروری ہوتا ہے۔خصوصاً ایسے وقت میں جبکہ اکثریت کے فیصلہ کو قبول کرنے سے قومی مفاد کو نقصان پہنچنے کا کوئی شدید احتمال نہ ہو۔یہ ایسی صاف بات ہے کہ جس کو ہر عقل مند انسان اچھی طرح سمجھ سکتا ہے لیکن مجھے افسوس ہے کہ تحصیل گوجر انوالہ میں نہ اقلیت نے اکثریت کی رائے کا کوئی خیال کیا اور نہ اکثریت نے فتنہ دور کرنے کی نیت سے اقلیت کی بات کو مانا۔جب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا تو اکثریت کو ہی خاموشی اختیار کر لینی چاہئے تھی۔پس میں اقلیت اور اکثریت دونوں کو ملزم گردانتا ہوں۔جب اکثریت نے دیکھا تھا کہ کچھ لوگ قومی نظام کو توڑ