خطبات محمود (جلد 27) — Page 79
*1946 79 خطبات محمود اپنے ساتھ خطرہ رکھتی ہے۔ہر فرشتے کے مقابلہ میں ایک شیطان ہے۔جس طرح ہر شیطان کے مقابلہ میں ایک فرشتہ ہے۔تمہیں صرف یہی قانون اپنے سامنے نہیں رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے شیطانوں کی سرکوبی کے لئے فرشتے بنائے ہیں بلکہ تمہیں یہ بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ فرشتوں کے کام کو خراب کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے شیطان بھی بنائے ہیں۔اگر نیکی سامنے آئے تو سمجھو کہ اس کے مقابلہ میں بُرائی بھی کھڑی ہے اور اگر بُرائی سامنے آئے تو تمہیں مطمئن رہنا چاہئے کہ اسے دور کرنے والے اللہ تعالیٰ نے فرشتے بھی مقرر کئے ہیں۔خطرے کے وقت میں اطمینان رکھنا صرف یہی نیکی نہیں بلکہ اطمینان کے وقت گھبرانا بھی نیکی میں شامل ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے یہ حقیقت بیان کی ہے کہ مومن کا ایمان خوف اور رجا کے درمیان ہوتا ہے مگر ان دونوں کے موقعے الگ الگ ہوتے ہیں۔ہر مومن کے لئے جب امن پیدا ہوتا ہے تو وہ خوف کے مقام پر ہوتا ہے اور جب خوف پید اہوتا ہے تو وہ رجا کے مقام پر ہوتا ہے۔خطرہ ہو تو مومن کے دل میں یہ اطمینان ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے لیکن جب آرام آتا ہے تو وہ مطمئن نہیں ہو تا بلکہ گھبراتا ہے اور کہتا ہے کہ شیطان میرے دروازے پر کھڑا ہے مجھے جلدی اس کا انتظام کرنا چاہئے۔پس اسے آرام کے وقت میں خوف ہو تا ہے اور خطرے کے وقت میں اطمینان ہوتا ہے۔یہی وہ حقیقی تقویٰ کا مقام ہے جس کے ساتھ انسان کا ایمان محفوظ ہوتا ہے۔پس قادیان کے لوگوں کے لئے بہت زیادہ خطرہ ہے۔اس لئے کہ چاروں طرف سے احمدیت کی آوازیں اٹھتی ہیں اور ان کے اٹھنے کی وجہ سے دشمن کے اعتراضات جن سے طبیعت میں ایک گرمی اور جوش پیدا ہو تا ہے اور انسان کے اندر تبلیغی مادہ کی روح پیدا ہوتی ہے مدھم پڑ جاتے ہیں۔احرار یہاں جلسے کرتے ہیں لیکن وہ جلسے ایسے نہیں کہ جن سے تبلیغ کا جوش پیدا ہو بلکہ وہ ایسے جلسے ہیں جن سے اشتعال پیدا ہوتا ہے۔چند لوگ باہر سے آتے ہیں اور لاؤڈ سپیکر لگا کر گالیاں دے جاتے ہیں۔یا کچھ اَئِمَّةُ الكُفر ہیں جو اپنی مخالفت میں انتہاء کو پہنچے ہوئے ہیں۔مگر بیر و نجات میں ہزار ہا لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے اعتراضات اخلاص پر مبنی ہوتے ہیں وہ اپنے اعتراضات بات کو سمجھنے کے لئے کرتے ہیں۔اس لئے سننے والا ان کے اعتراضوں سے غصہ میں نہیں آتا بلکہ سننے والے کے دل میں یہ شوق پیدا